لاہور (ویب ڈیسک) سینئرصحافی حبیب اکرم نے دعویٰ کیا ہے کہ اپریل 2022 کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ’’آسمان‘‘ کے کسی نمائندے کو دفاعی پوزیشن میں جانا پڑا ہے،مسلم لیگ( ن) اور پیپلز پارٹی دونوں ہی اصلاً دستور کی محافظ نہیں، مجاور بنی بیٹھی ہیں، نئے صوبوں کی بحث نے شاید پہلی مرتبہ حکمران جماعتوں کو یاد دلایا ہے کہ ان کی بقا ءصرف حکومت میں رہنے سے نہیں، اپنی سیاسی بنیاد بچانے سے وابستہ ہے۔یہ یادداشت دیرپا ہوگی یا وقتی؟ اس کا فیصلہ دوسرے معاملات میں ان کے رویئے سے ہوگا۔
اپنے ایک ویلاگ میں ان کاکہناتھاکہ محسن نقوی صاحب کی زیرِ نگرانی 2024 کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کیسے جیتی اور پیپلز پارٹی کیسے اقتدار میں شامل ہوئی، وہ کسی دستوری پیش رفت کے تحت نہیں تھا بلکہ فارم 47 کے تابع تھا۔ انتخابات بے وقعت ہو گئے تو نتیجہ یہ ہے کہ پارلیمان موجود ہے، مگر بڑے فیصلے کہیں اور ہو جاتے ہیں،عدالتوں کی عمارتیں بڑھ گئی ہیں، مگر انصاف صرف غلام گردشوں میں دھکے کھا رہا ہے۔ شاید ہی کوئی ادارہ ہے جو اپنے دائرۂ کار میں کام کر رہا ہو۔اتنا کچھ ہونے کے بعد جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ( ن) دستور کی بات کرتی ہیں تو کچھ ہنسی آتی ہے، لیکن مقامِ عبرت بھی ہے کہ انہیں پناہ بھی ملی تو اسی دستور میں جسے انہوں نے قاضی فائز عیسیٰ اور فارم 47 کے ذریعے ٹھکانے لگا دیا تھا۔
محسن نقوی کے بیان کا ایک نقصان خود نئے صوبوں کے تصور کو بھی ہوا ہے، اب پاکستان میں نئے صوبوں کا تصور محض ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ اس کے باوجود اس پورے قضیے سے ایک مفید نتیجہ نکلا ہے۔ سیاست نے کم از کم اس ایک مقام پر اپنے وجود کا احساس دلایا ہے۔
حکمران جماعتوں نے ایک ایسے خیال کو فوراً گلے نہیں لگایا جس کے بارے میں یہ تاثر موجود تھا کہ وہ اوپر سے آیا ہے۔ یہ ان جماعتوں کی کسی جمہوری بیداری کا حتمی ثبوت نہیں، صرف ایک اشارہ ہے کہ سیاسی مفاد بعض اوقات طاقت کے دباؤ سے زیادہ مضبوط بھی ہو سکتا ہے۔یہی اصول آگے بڑھا تو پاکستان میں سیاست کے لیے کچھ جگہ نکل سکتی ہے۔ اس حوالے سے ایک پوری بات یہ ہے کہ حکمران اتحاد کے سیاسی اور غیر سیاسی فریقوں کے درمیان وجہِ دوستی آج بھی عمران خان کا خوف ہے۔ اسی خوف سے آسمان حکومتی بندوبست کی جان قبض کر لیتا ہے اور عمران خان کا نام ہی اس گروہِ سیاست کاراں کی انشورنس پالیسی بن جاتا ہے جہاں تک ملکی نظام کا تعلق ہے تو اس سارے معاملے کا حاصل یہ ہے کہ نئے صوبوں سے پہلے دستور کی کتاب کم از کم ایک بار آزما کر دیکھ لی جائے۔ اس میں اختیار کی تقسیم کا خاکہ بھی موجود ہے اور مقامی حکومتوں کی سمت بھی لکھی ہوئی ہے۔اکابر کا وتیرہ ہے کہ سیدھے راستے پرچلنے کی بجائے ہر چند برس بعد کوئی نیا نسخہ تلاش کرنے لگتے ہیں، پاکستان کو اس وقت نئے نقشے سے پہلے اپنے موجودہ دستور کو پوری سنجیدگی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔
اہم خبر
نئے صوبوں کی بحث، حکمران جماعتوں کی بقا صرف اقتدار میں نہیں: حبیب اکرم
