پاکستان

پشاور ہائی کورٹ: پاکستان اوریجن کارڈ کے لیے افغان شریک حیات کو نادرا سے رجوع کرنے کی ہدایت

پشاور ہائی کورٹ: پاکستان اوریجن کارڈ کے لیے افغان شریک حیات کو نادرا سے رجوع کرنے کی ہدایت

خبر:
پشاور ہائی کورٹ نے پاکستانی شہریوں کی جانب سے اپنے افغان شریک حیات کو پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) جاری کرنے سے متعلق دائر درخواستیں نمٹاتے ہوئے درخواست گزاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے نادرا سے رجوع کریں۔

دو رکنی بینچ نے سماعت کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ہدایت کی کہ خاندانی وحدت کے پیش نظر درخواست گزاروں کے خاندان کے کسی فرد کے خلاف جبری کارروائی نہ کی جائے جب تک نادرا پی او سی کی درخواست پر حتمی فیصلہ نہ کر دے یا درخواست جمع کرانے کی تاریخ سے چھ ماہ مکمل نہ ہو جائیں۔

عدالت کے سامنے مختلف درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے پاکستانی شہریوں سے شادی کی بنیاد پر اپنے شریک حیات کے لیے پی او سی کے اجرا کی درخواستیں جمع کرائی ہیں لیکن متعلقہ حکام نے ان پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نادرا میں نئی درخواست جمع کرا سکتے ہیں اور متعلقہ اتھارٹی قانون کے مطابق اس پر کارروائی کرتے ہوئے فیصلہ کرے۔ اگر درخواست میں کوئی کمی ہو یا اسے مسترد کیا جائے تو اس بارے میں مفصل تحریری حکم بھی فراہم کیا جائے۔

عدالت نے مزید کہا کہ افغان خواتین پاکستانی شہری سے شادی کی صورت میں پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951 کے تحت شہریت کے لیے درخواست دے سکتی ہیں، جبکہ ایسے معاملات میں جہاں افغان مرد نے پاکستانی خاتون سے شادی کی ہو وہ نیچرلائزیشن ایکٹ 1926 کے تحت شہریت کے حصول کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسی درخواستوں پر ترجیحی بنیادوں پر چھ ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *