اہم خبرپاکستان

سلامتی کونسل دہشت گردی کے خلاف موجودہ نظام سے خامیاں دور کرے: پاکستان

نیویارک(آن لائن) پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف نئے، جامع اور دور اندیش بین الاقوامی ردعمل کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے انسداد دہشت گردی کے ڈھانچے کو مضبوط بنائے اور پابندیوں کے موجودہ نظام میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ’دہشت گردی کی کارروائیوں سے بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کو لاحق خطرات، نائن الیون کے 25 سال بعد۔ دہشت گردی کے خلاف سلامتی کونسل کی لڑائی کی تجدید‘ کے موضوع پر سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے سات پاکستانیوں سمیت نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کا نشانہ بننے والوں کو خراج تحسین پیش کیا اور امریکی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔نائن الیون پر عالمی ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں سلامتی کونسل نے فوری کارروائی کی، جس میں قرارداد 1373 کی منظوری بھی شامل ہے، جو تاحال اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی فریم ورک کا ایک اہم جزو ہے۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں، انٹیلی جنس تعاون اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ سکیورٹی ہم آہنگی نے القاعدہ کی صلاحیتوں کو نمایاں حد تک کم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے خلاف بین الاقوامی مہم میں سب سے نمایاں کامیابیاں پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور فعال تعاون کے ذریعے حاصل کی گئیں۔پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ پاکستان نے اس جنگ میں بہت بھاری قیمت چکائی ہے، رواں صدی کے آغاز سے اب تک سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت 90 ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بن کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جب کہ اس کے ساتھ ساتھ مسلسل معاشی نقصانات بھی اٹھانے پڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل نے 25 سال قبل ہنگامی بنیادوں، اتحاد اور عزم کے ساتھ ردعمل دیا تھا، لیکن اس کے بعد سے دہشت گردی کے خطرے کی نوعیت بدل چکی ہے، دہشت گردی کا منظرنامہ اب تبدیل ہو کر نئی شکل اختیار کر چکا ہے اور نئے خطرات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے فریم ورک میں خامیوں کو دور کرنے کے لیے پابندیوں کے موجودہ نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے انتہائی دائیں بازو کی شدت پسندی کے عروج، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں دہشت گردی کے مسلسل خطرے کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے پروپیگنڈے، ذہن سازی، بھرتی، روابط اور مالی اعانت کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی اجاگر کیا۔افغانستان سے پنپنے والی دہشت گردی پر خاص تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تین برسوں کے دوران 4700 سے زائد پاکستانی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔انہوں نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم اور داعش سمیت دہشت گرد گروہوں کے خلاف م¶ثر بین الاقوامی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔عاصم افتخار نے انہوں نے دہشت گردوں کی مالی اعانت کے لیے ڈارک ویب، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی میں، یہ خطرہ یقینی طور پر کئی گنا بڑھ جائے گا۔انہوں نے انسداد دہشت گردی کے لیے جامع نقطہ نظر پر زور دیا، جس میں اقوام متحدہ کی عالمی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے چاروں ستونوں پر متوازن عمل درآمد اور دہشت گردی کے بنیادی اسباب اور اس کے لیے سازگار حالات سے نمٹنے پر زیادہ توجہ دینا شامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی قبضے کی صورت حال میں بھی احتساب کا اطلاق ہونا چاہئے، اور کہا کہ قابض قوتوں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے اور انہیں اپنا حق خودارادیت استعمال کرنے والے عوام کے خلاف استثنیٰ کے ساتھ کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔عاصم افتخار نے کہا کہ بین الاقوامی ردعمل کو دہشت گردی کے تیزی سے بدلتے ہوئے خطرے سے آگے رہنا چاہئے، دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی ردعمل کو تیز تر ہونا چاہیے، بلکہ تیزی سے ابھرتے ہوئے خطرے سے آگے ہونا چاہئے۔انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری اٹھائے، اس بات کو یقینی بنائے کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، اور اس عالمی خطرے کے خلاف ایک متحد اور اجتماعی محاذ‘ بنانے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور علاقائی ہم آہنگی کو مضبوط کرے

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *