اہم خبربلوچستان

بلوچستان میں سرکاری ملازمتوں کی خرید و فروخت کا معاملہ پھر گرم

کوئٹہ:بلوچستان میں سرکاری ملازمتوں کی مبینہ خرید و فروخت کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کرگیا ہے۔ صوبائی وزیر خوراک نور محمد دومڑ نے محکمہ جنگلات میں سرکاری ملازمتوں کی مبینہ فروخت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض پوسٹیں 10 لاکھ، 15 لاکھ اور 20 لاکھ روپے تک میں دی جارہی ہیں۔نور محمد کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کی مبینہ خرید و فروخت کے باعث میرٹ اور شفافیت کے اصول متاثر ہورہے ہیں، جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔دوسری جانب بلوچستان حکومت نے محکمہ جنگلات کی تقریبا 300 آسامیوں پر بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ حکام کی جانب سے بھرتیوں کے عمل اور سامنے آنے والی شکایات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ادھر وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریز سے حلف لیا ہے کہ وہ سرکاری ملازمتوں کی خرید و فروخت نہیں ہونے دیں گے اور بھرتیوں کے عمل میں میرٹ، شفافیت اور قواعد و ضوابط کی پابندی یقینی بنائیں گے۔وزیراعلی نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی محکمہ میں ملازمتوں کی خرید و فروخت کے مصدقہ شواہد سامنے آئے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکومت کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ محکمہ جنگلات میں بھرتیوں سے متعلق سامنے آنے والے الزامات میں کس حد تک صداقت ہے اور ذمہ داری کن افراد پر عائد ہوتی ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *