اسلام آباد :پاکستان نے حوثی باغیوں کے مکہ مکرمہ کے مقدس مقاما ت پر حملے کی انتہائی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہیں،پاکستان حرمین شریفین کے تقدس اور دفاع کے لیے سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں حوثی حملوں کے تناظر میں ابھرتی ہوئی صورتحال کا باریکی سے جائزہ لے رہا ہے۔ ترجمان نے مکہ مکرمہ کے مقدس مقامات پر ڈرون حملے کی کوشش اور ریاض و مدینہ میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہیں۔ ترجمان نے کہا وزیراعظم شہباز شریف کا 13 ستمبر کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں پاکستان نے حرمین شریفین کے تقدس اور دفاع کے لیے سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا عزم دہرایا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سعودی مسلح افواج کی بروقت اور بہادرانہ کارروائی سے حملہ ناکام بنانے کو سراہتے ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی ان حملوں کی پرزور مذمت کی ہے۔ پاکستان کا مو¿قف ہے کہ تمام فریقین زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازع بڑھانے سے گریز کریں۔ حوثی اقدام علاقائی امن و سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔ترجمان نے انکشاف کیا کہ 15 ستمبر کو خصوصی اقتصادی زون میں بھارتی بحری جہاز نے بین الاقوامی قوانین اور 1991 کے دوطرفہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی بحری جہاز کے انتہائی قریب جارحانہ نقل و حرکت کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں ٹکر ہوئی۔پاکستان نے اس اشتعال انگیزی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے نئی دہلی میں بھی پاکستانی ناظم الامور کے ذریعے بھارتی وزارت خارجہ کو ڈیمارش جاری کیا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ لبنانی وزیر داخلہ کے دورے میں وزیراعظم شہباز شریف نے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ، آرمینیا میں پاکستان کے پہلے سفیر شفقت علی خان نے اپنے سفارتی اسناد پیش کر دی ہیں۔ کرتارپور راہداری اور سکھ یاتریوں کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے مکمل تیار ہے، جبکہ بارڈر بند رکھنے کا اقدام بھارت کی جانب سے کیا گیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لے رہا ہے۔ خطے میں پائیدار امن اور تنازعات کے حل کے لیے پاکستان ہمیشہ سفارت کاری اور پرامن مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی
اہم خبرپاکستان
پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلیے مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہے، دفتر خارجہ
