کراچی :اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 67 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس تک پہنچ گیا، گزشتہ 20 سال میں سب سے زیادہ 11 آئی پی اوز گزشتہ سال ہوئے گزشتہ 12 ماہ میں اسٹاک مارکیٹ میں جین زی اور ملینیئلز کی شراکت 85 فیصد رہی، اپنا گھر پروگرام کیلئے 60 ارب روپے جاری، بینکوں نے 340 ارب کی منظوری دی بانڈ مارکیٹ کو ریٹیل مارکیٹ تک وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں اسٹاک ایکسچینج میں تقریب سے خطاب کراچی: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی میں سرمایہ کاروں کی شراکت گزشتہ ڈھائی سال کے دوران دوگنا سے زائد بڑھ چکی ہے، جبکہ حکومت کا ہدف میکرو اکنامک استحکام کو پائیدار بناتے ہوئے معیشت کو بوم اینڈ بسٹ سائیکل سے نکالنا ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے مالیاتی استحکام بنیادی ضرورت تھا، اب توجہ پائیدار معاشی استحکام اور ترقی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیکوئیڈیٹی کے ذریعے عارضی ترقی کے بجائے پائیدار بنیادوں پر معاشی نمو کو فروغ دینا ہوگا۔ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت 60 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ بینکنگ انڈسٹری نے اس پروگرام کے لیے 340 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔ ان کے مطابق اب اصل چیلنج قرضوں کی منظوری نہیں بلکہ سپلائی سائیڈ کو آگے بڑھانا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ریئٹس اس شعبے میں پل کا کردار ادا کریں گی، جبکہ عارف حبیب اور آباد ہاو¿س کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پہلی مرتبہ 29 مارچ 2024 کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج آئے تھے، اس وقت 100 انڈیکس تقریباً 67 ہزار پوائنٹس پر تھا جو اب ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق انڈیکس میں اضافے کے پسِ پشت موجود محرکات کا جائزہ اہم ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ 20 برس کے دوران سب سے زیادہ آئی پی اوز گزشتہ سال ہوئے، جن کی تعداد 11 رہی، جبکہ گزشتہ ڈھائی سال میں سرمایہ کاروں کی شراکت دوگنا سے زائد بڑھی ہے۔ گزشتہ 12 ماہ کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں جین زی اور ملینیئلز کی شراکت 85 فیصد رہی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ڈسکوز کی نجکاری میں ترکیہ کے سرمایہ کاروں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے سوالات اٹھتے ہیں، تاہم ایسے معاملات میں وقت درکار ہوتا ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ تین سال قبل معیشت سکڑ گئی تھی، حکومت کا کام نجی شعبے کو کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے جبکہ نجی شعبے کو معاشی ذرگرمیوں میں قیادت کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح میکرو اکنامک استحکام کو پائیدار بنانا اور بوم اینڈ بسٹ سائیکل کا خاتمہ ہے۔ مندی کے بعد معیشت کو بحال کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے پائیدار ترقی کی بنیاد مضبوط کرنا ضروری ہے۔ وزیر خزانہ نے ٹیکس وصولیوں کے حوالے سے کہا کہ ٹیکس ہدف میں کمی خبر بن جاتی ہے، تاہم ٹیکس ہدف کے حصول کو بھی اجاگر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب نئی معیشت 2.0 کی جانب بڑھنا ہوگا، جس میں کرپٹو کے علاوہ عالمی سروسز کے شعبے میں بھی مواقع موجود ہیں اور پاکستان اس شعبے میں قیادت کر سکتا ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت بانڈ مارکیٹ کو ریٹیل مارکیٹ تک وسعت دینے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ کیپٹل مارکیٹس ڈویلپمنٹ کونسل وزیراعظم کو پیش کرنے کے لیے اپنی سفارشات مرتب کر رہی ہے۔
اہم خبرپاکستانکاروبار
معاشی ترقی میں سرمایہ کاروں کی شراکت ڈھائی سال میں دوگنا سے زائد بڑھی: وزیر خزانہ
