عالیہ گذشتہ آٹھ برسوں سے اپنے شوہر اور دو بیٹیوں کے ساتھ دبئی ہلز کے علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔
انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ دبئی جیسے محفوظ ترین شہر پر بھی حملہ ہو سکتا ہے۔ آج کل وہ مسلسل دھماکوں کی آوازیں سن رہی ہیں، جن سے ان کے گھر کی کھڑکیاں لرز اٹھتی ہیں اور ان کی چھوٹی بیٹیاں سہم جاتی ہیں۔
بی بی سی اردو بات کرتے ہوئے عالیہ بتاتی ہیں کہ ’ہم نے زندگی میں کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا، دھماکوں کی آوازیں ’بہت خوفناک‘ ہیں۔‘
وہ اپنی بیٹیوں کو لے کر خوفزدہ ہیں اور انھیں کھڑکیوں سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
گذشتہ دو دنوں سے دبئی کے رہائشی زیادہ تر گھروں کے اندر ہی رہ رہے ہیں، مالز اور سڑکیں تقریباً خالی ہیں اور ریستورانوں میں بھی معمول جیسا رش نظر نہیں آتا۔
یہاں کے آسمانوں میں بھی کوئی ڈریم لائنر یا ائیر بسز نظر نہیں آ رہی جو جوق در جوق سیاحوں اور مزدوروں کے کارگو لا رہی ہوں۔۔۔ البتہ تھورے تھوڑے وقفے سے بیلسٹک میزائل اور ڈرون دکھائی دیتے ہیں جو خلیج کے اس پار متحدہ عرب امارات کا ہمسایہ ایران ان ریاستوں پر داغ رہا ہے۔
وہ شہر جسے یہاں کے رہائشی اور سیاح دنیا کا محفوظ ترین شہر سمجھتے تھے اب ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں ہے۔ یہ حملے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے ردِعمل میں کیے جا رہے ہیں۔
فئیر ماؤنٹ پام جیسے لگژری ہوٹل سے لے کر شاپنگ مالز، بلند و بالا اپارٹمنٹ بلاکس اور دبئی ایئرپورٹ جو دنیا کا مصروف ترین مسافر ہوائی اڈہ ہے، کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
