انٹرنیشنل

چار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرگئے، ایران سے تعلق کی تصدیق سامنے آگئی

تجزیہ کیے گئے جہازوں کی ٹریکنگ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے آغاز کے باوجود ایران سے منسلک چار جہاز آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔

ان میں سے دو جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں کا دورہ کیا تھا، جیسا کہ میرین ٹریفک کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے مطابق ایک مال بردار جہاز کریستیانا نے پیر کے روز، ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد، آبنائے ہرمز عبور کی۔ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز ایران کی بندرگاہ بندر امام خمینی سے آیا تھا۔

ڈیٹا کے مطابق رِچ سٹاری نامی جہاز، جس پر ایران سے متعلق تجارت کے باعث امریکہ نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے مشرق کی جانب روانہ ہوا اور راتوں رات آبنائے ہرمز عبور کر گیا۔

اسی طرح مرلی کشن نامی ایک آئل ٹینکر، جو ایران سے متعلق تجارت کے سبب امریکی پابندیوں کی زد میں ہے، چین کے شہر لانشان سے روانہ ہوا اور رات کے وقت مغرب کی جانب آبنائے ہرمز سے گزرا۔ میرین ٹریفک کے مطابق اس کی آخری رپورٹ کردہ پوزیشن ایران کے جزیرے قشم کے مشرق میں تھی۔

ایک اور ٹینکر ایلپس منگل کے روز مشرق کی جانب جاتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرا۔ ٹریکنگ کے مطابق یہ جہاز ایران کی بندرگاہ بوشہر سے آیا تھا۔ اس پر بھی امریکہ کی پابندیاں عائد ہیں اور اس کی منزل تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔

یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے بعض جہاز اپنی اصل پوزیشن چھپانے کے لیے غلط لوکیشن سگنلز نشر کر رہے ہوں، جسے جہاز رانی کی اصطلاح میں ’سپوفنگ‘ کہا جاتا ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ پیر کے روز پاکستانی وقت شام سات بجے سے اس نے ’ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والی تمام سمندری ٹریفک کی ناکہ بندی‘ شروع کر دی ہے۔ تاہم اس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ ’غیر ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں کی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی آزادی میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔‘

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *