بلوچستان

کنٹینر میں چھوٹے بچے، انجانا خوف اور جلی ہوئی عمارتیں: بی بی سی نے نوشکی میں کیا دیکھا؟

جب میں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے نوشکی تک سفر کے دوران ایک ہوٹل پر چائے پینے کے لیے رُکا تو وہاں رُکنے والے ایک تجارتی کنٹینر سے پانچ، چھ چھوٹے بچوں اور بچیوں کو اُتارتے ہوئے دیکھنا مجھے کچھ عجیب سا لگا۔

متجسس نگاہوں اور محتاط انداز کے ساتھ میں کنٹینر کی جانب بڑھا تو وہاں موجود شخص نے میرے استفسار پر بتایا کہ وہ اپنے بچوں اور اہلخانہ کے ہمراہ کنٹینر میں نوشکی سے کوئٹہ جا رہے ہیں۔

اُس شخص نے اپنا نام لال محمد خلجی بتایا اور دعویٰ کیا کہ نوشکی میں گذشتہ ماہ کے آواخر میں ہونے والے بی ایل اے کے حملوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث وہ نوشکی سے کوئٹہ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

لال محمد نے دعویٰ کیا کہ نوشکی میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی صورتحال کے باعث وہاں اُن کا ذریعہ معاش تباہ ہو چکا ہے اور اب وہ کوئٹہ میں اپنی قسمت آزمائیں گے۔

31 جنوری کو نوشکی میں ہونے والے اِن حملوں کے باعث جہاں لال محمد کی طرح نوشکی کی شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہاں سرکاری اور نجی املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، اور اسی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بی بی سی اُردو کی ٹیم نوشکی کا سفر کر رہی تھی۔

ان حملوں کی وجہ سے نہ صرف چھ، سات روز تک شہری اپنے گھروں میں محصور رہے بلکہ اس کے بعد بھی اُن کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نوشکی سمیت دیگر شہروں میں ان حملوں کی ذمہ کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے نے قبول کی تھی اور انھیں ’آپریشن ہیروف‘ کا دوسرا مرحلہ قرار دیا تھا جس کے دوران، سرکاری حکام کے مطابق، عام شہریوں سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہلاک ہوئے تھے، جبکہ بہت سے عسکریت پسند بھی جوابی کارروائیوں میں مارے گئے تھے۔

آئیے جانتے ہیں کہ ان حملوں سے نوشکی شہر میں سرکاری اور نجی املاک کو کہاں اور کتنا نقصان پہنچا اور اب لوگوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *