اسلام آباد : وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، فی ایکڑ پیداوار میں اضافے، زراعت میں جدت، لائیو اسٹاک کے فروغ اور زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مو¿ثر رابطہ اور شراکت داری ناگزیر ہے۔وزیراعظم کی زیر صدارت زرعی شعبے اور زرعی برآمدات کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس ہوا، جس میں ملک میں زرعی پیداوار بڑھانے، جدید زرعی طریقہ کار متعارف کرانے، کسانوں کو سہولیات فراہم کرنے اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کی رسائی وسیع کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پاکستان کی زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے اور نئی مارکیٹیں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے بیرون ملک پاکستانی مشنز میں تعینات کمرشل افسران کو بھی مو¿ثر کردار ادا کرنے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ زرعی شعبے کی برآمدات میں اضافے کے لیے زرعی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن ناگزیر ہے۔ انہوں نے زرعی پیداوار کو عالمی معیار کے مطابق بنانے اور ویلیو چینز کی تشکیل کے لیے مو¿ثر اقدامات پر زور دیا۔وزیراعظم نے کسانوں کو فصلوں کی نگرانی کے لیے دستیاب موبائل ایپ کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے مو¿ثر میڈیا مہم چلانے کی بھی ہدایت کی تاکہ کاشتکار جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کے زرعی شعبے سے مجموعی برآمدات 5.18 ارب ڈالر رہیں۔ پاکستان کی نمایاں زرعی برآمدات میں چاول، فشریز، حلال گوشت، آلو، تل، تمباکو، آم اور مکئی شامل ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ چین، سعودی عرب، ایران اور خلیجی ممالک پاکستان کی زرعی مصنوعات کے لیے اہم برآمدی منڈیاں ہیں۔ زرعی برآمدات میں مزید اضافے کے لیے مختلف مصنوعات کی ویلیو چینز تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سیکیورٹی کونسل کو فعال کیا جائے گا، جس میں وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبوں کی نمائندگی کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد وفاق اور صوبوں کے درمیان زرعی پالیسی اور غذائی تحفظ کے معاملات میں بہتر رابطہ اور تعاون یقینی بنانا ہے۔بریفنگ میں ملک بھر کے کسانوں اور زرعی زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کرنے کے لیے ڈیجیٹل فارمرز ڈائری۔ایگری اسٹیک تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اس نظام کے تحت زمین اور پانی کی جانچ سے متعلق ریکارڈ بھی ڈیجیٹائز کیے جائیں گے۔اجلاس میں بہتر نتائج کے حامل زرعی طریقہ? کار کے فروغ کے لیے پاکستان گڈ ایگریکلچر پریکٹسز (پاک۔گیپ) نظام تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی، جبکہ زرعی برآمد کنندگان کے فروغ کے لیے زرعی فنانسنگ کی سہولیات فراہم کرنے پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطائ اللہ تارڑ، وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، مشیر صنعت و پیداوار ہارون اختر، وزیر مملکت خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیر مملکت قومی غذائی تحفظ ملک رشید احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی
اہم خبرپاکستان
زرعی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کیلئے ویلیو ایڈیشن ناگزیر ہے، وزیراعظم
