اسلام آباد( آن لائن ) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر 26 اگست 2026 کو پمز کی ایم سی ایچ نرسری میں ہونے والی آتشزدگی کی مکمل انکوائری رپورٹ جاری کردی گئی۔ رپورٹ کے مطابق نرسری میں زیر علاج 15 نومولود بچوں میں سے 14 جاں بحق ہوئے جبکہ ایک بچے کو محفوظ بچا لیا گیا۔تحقیقاتی کمیٹی نے آگ لگنے کی بنیادی وجہ کے ساتھ ساتھ اس کے تباہ کن نتائج کا باعث بننے والے عوامل، ہنگامی ردعمل، نومولود بچوں کے انخلا، انفرادی و ادارہ جاتی ذمہ داری اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا۔رپورٹ کے مطابق نیشنل فرانزک ایجنسی سے حاصل ہونے والے تکنیکی شواہد کی بنیاد پر آگ لگنے کا سب سے زیادہ ممکنہ مقام اے سی یونٹ نمبر 2 کے قریب موجود بجلی کی کیبل قرار دیا گیا۔ ممکنہ طور پر مقامی برقی حرارت، زائد کرنٹ، زیادہ مزاحمت والے کنکشن یا برقی نقص کے باعث کیبل کی انسولیشن متاثر ہوئی اور قریب موجود آتش گیر مواد نے آگ پکڑ لی۔تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق شواہد آتش زنی، ایک سے زیادہ مقامات سے آگ لگنے، بیرونی بجلی کی خرابی یا آگ لگنے سے قبل آکسیجن کے اخراج کو بنیادی وجہ قرار دینے کی تائید نہیں کرتے۔ اسی طرح انکیوبیٹر یا وارمر کو آگ لگنے کا ذریعہ قرار دینے کے شواہد بھی سامنے نہیں آئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نرسری میں موجود فرنٹ لائن عملے نے آگ بھڑکنے کے فوراً بعد بچوں کو بچانے کے لیے کارروائی کی۔ چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ ماریہ سلیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین نے ابتدائی لمحات میں ممکنہ اقدامات کیے، جبکہ نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود بچے کو بچایا اور دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔ ڈاکٹر محمد عبدالرحمان بھی واقعے کے وقت موقع پر موجود تھے۔سی سی ٹی وی ریکارڈ کے مطابق تقریباً 6 بج کر 38 منٹ 15 سیکنڈ پر آگ واضح طور پر بھڑک چکی تھی، جبکہ تقریباً ایک منٹ بعد گہرے دھوئیں نے کیمروں کی منظر کشی کو تقریباً مکمل طور پر متاثر کردیا۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ دستیاب شواہد اس تاثر کی تردید کرتے ہیں کہ فرنٹ لائن عملے نے نومولود بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔رپورٹ کے مطابق نرسری میں 10 بستروں کی گنجائش کے مقابلے میں 15 انتہائی نازک نومولود بچے زیر علاج تھے، جن میں متعدد آکسیجن یا سانس کی معاونت پر انحصار کر رہے تھے۔ ایسے حالات میں بچوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنا انتہائی مشکل تھا۔ اس وقت صرف دو ڈاکٹر اور دو نرسیں موجود تھیں جبکہ محفوظ انخلا کے وسائل بھی محدود تھے۔تحقیقاتی کمیٹی نے نشاندہی کی کہ نومولود بچوں کے انخلا کے لیے باقاعدہ منظور شدہ، تربیت یافتہ عملے کے ذریعے مشق شدہ طریقہ کار کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ متاثرہ حصے میں خودکار دھوئیں کا سراغ لگانے، الارم اور پانی کے ذریعے آگ بجھانے کے خودکار نظام کی موجودگی بھی ثابت نہیں ہوئی۔ آتش گیر مواد اور آکسیجن کے ماحول نے آگ اور دھوئیں کی شدت میں مزید اضافہ کیا۔رپورٹ میں ہنگامی ردعمل کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بیرونی امداد کے لیے اطلاع تقریباً 6 بج کر 54 منٹ پر دی گئی، جبکہ روانگی 6 بج کر 55 منٹ اور عملی آمد 7 بج کر ایک منٹ پر ریکارڈ ہوئی۔ کمیٹی نے آگ کے واضح طور پر سامنے آنے اور بیرونی امداد کے فعال ہونے کے درمیان موجود وقفے کو ناقابل قبول قرار دیا۔تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق پمز کی جانب سے ایسا مو¿ثر ہنگامی کمانڈ نظام بھی ثابت نہیں کیا جاسکا جو آگ کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر الارم، بیرونی اطلاع، انخلا، خطرے پر قابو پانے، رسائی کے انتظام اور امدادی کارروائیوں کو مربوط انداز میں فعال کرسکتا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمز نرسری کا سانحہ ایسے معلوم شدہ خطرات کے پس منظر میں پیش آیا جن کے بارے میں ہسپتال انتظامیہ کو پہلے سے آگاہ کیا جاچکا تھا۔ سی ڈی اے کی سابقہ خط و کتابت اور وفاقی محتسب کی 2015 کی سفارشات میں بھی حفاظتی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جبکہ پمز نے 2025 میں فرسودہ فائر سیفٹی ڈھانچے کا اعتراف کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق 6 جولائی 2026 کو نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ کے بعد بھی آگ کی بروقت نشاندہی، الارم، برقی معائنہ، انخلا، آگ بجھانے کے آلات، فائر ڈرلز اور ہنگامی منصوبہ بندی میں خامیوں کی نشاندہی ہوچکی تھی، تاہم ان سابقہ تنبیہات کو نرسری سانحے سے قبل کسی جامع اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ اصلاحی پروگرام میں تبدیل نہیں کیا گیا۔کمیٹی نے قرار دیا کہ اس معاملے میں نظامی اور ادارہ جاتی ناکامی سامنے آئی ہے، تاہم کسی فرد کی انفرادی ذمہ داری کا حتمی تعین مزید تفتیش اور متعلقہ قواعد کے مطابق کیا جانا چاہیے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ معلوم خطرات اور سابقہ تنبیہات کو مو¿ثر حفاظتی نظام میں تبدیل نہ کرنے کے باعث پمز اور اعلیٰ انتظامیہ پر بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔تحقیقاتی رپورٹ میں اے سی یونٹ نمبر 2 کی برقی تنصیب یا دیکھ بھال میں قابل مواخذہ غفلت، ہنگامی راستے میں رکاوٹ، سابقہ تنبیہات کے باوجود کارروائی نہ کرنے اور بیرونی امداد طلب کرنے میں ممکنہ تاخیر کے پہلوو¿ں پر مزید فوجداری تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔کمیٹی نے واضح کیا کہ موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر کسی نامزد فرد کے خلاف فوجداری جرم ثابت نہیں ہوتا اور اس معاملے میں مزید قانونی تفتیش ضروری ہے۔ ساتھ ہی فرنٹ لائن اہلکاروں کو محض سانحے کے تباہ کن نتائج کی بنیاد پر مورد الزام نہ ٹھہرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے، کیونکہ ان کی جانب سے امدادی کارروائی کے شواہد موجود ہیں۔انکوائری کمیٹی نے فوری طور پر فائر سیفٹی اقدامات، برقی حفاظتی آڈٹ، مو¿ثر آگ کا سراغ لگانے اور الارم کے نظام، آگ بجھانے کے انتظامات اور محفوظ انخلا کو یقینی بنانے کی سفارش کی ہے۔ نومولود بچوں کے لیے مخصوص انخلا کے طریقہ کار اور باقاعدہ عملی مشقوں کے انعقاد پر بھی زور دیا گیا ہے۔رپورٹ میں پیشہ ورانہ اور میرٹ پر مبنی ہسپتال انتظامیہ، مضبوط نگرانی اور مو¿ثر تعمیل کے نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر حفاظتی خامی کے لیے ذمہ دار افسر، مقررہ مدت، مطلوبہ وسائل، عبوری حفاظتی اقدام اور آزادانہ تصدیق کا واضح طریقہ کار ہونا چاہیے۔کمیٹی کے مطابق محض کسی حفاظتی اقدام کی منظوری یا اس پر کام شروع ہوجانا اس کے مو¿ثر نفاذ کا ثبوت نہیں، بلکہ حفاظتی اقدام اسی وقت نافذ تصور ہوگا جب خطرہ عملی طور پر ختم ہو اور اس کی آزادانہ تصدیق بھی کی جائے۔تحقیقاتی کمیٹی نے مجموعی طور پر 52 نکاتی تحقیقی فریم ورک کے تحت شواہد کا جائزہ لیا، جس میں فرانزک مواد، سی سی ٹی وی ریکارڈ، کال ریکارڈ، انجینئرنگ و مینٹیننس دستاویزات، طبی و حادثاتی ریکارڈ، ڈیوٹی و حاضری ریکارڈ، گواہوں کے بیانات، متعلقہ ضابطہ جاتی ریکارڈ اور سابقہ تحقیقات شامل تھیں۔وزیراعظم نے سانحے کے بعد 26 اگست کو انکوائری کمیٹی قائم کی تھی، جس کے چیئرمین سابق وفاقی سیکریٹری شاہد خان تھے جبکہ میجر جنرل ریٹائرڈ ڈاکٹر خورشید، بیرسٹر نبیل احمد اعوان، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اس کے ارکان تھے۔ ماہر رکن ڈاکٹر رشید اے چوتانی کو بھی امریکہ سے کمیٹی میں شامل کیا گیا۔کمیٹی نے 28 اگست کو عبوری رپورٹ پیش کی، جبکہ رپورٹ کا ابتدائی مسودہ 3 ستمبر، پہلا مسودہ 4 ستمبر اور حتمی مسودہ 6 ستمبر کو تیار کیا گیا۔ کمیٹی نے تمام ارکان کی آرائ اور تجاویز کو حتمی رپورٹ کا حصہ بنایا۔رپورٹ میں قرار دیا گیا کہ 14 نومولود بچوں کی ہلاکت صرف ایک حفاظتی انتظام کی ناکامی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ متعدد حفاظتی اقدامات کے موجود نہ ہونے، کمزور ہونے، بروقت فعال نہ ہونے یا ان کے مو¿ثر ہونے کی تصدیق نہ کیے جانے کے باعث سانحہ اس قدر تباہ کن ہوا۔
اہم خبرپاکستان
