اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ اور وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے بدھ کو وزیراعظم کی ہدایت پر ڈسکوز میں بے ضابطگیوں اور بجلی چوری سے متعلق قائم کمیٹی کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ اجلاس میں بجلی چوری کی روک تھام، تقسیمِ بجلی کے نقصانات کم کرنے اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کو پاور ڈویژن، نیپرا، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں نے بجلی چوری، تقسیم کے نقصانات، ریکوری اور شعب توانائی میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔غور و خوض کے بعد کمیٹی نے بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کا جامع تکنیکی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا، تاکہ بجلی چوری کے اصل حجم، وجوہات اور متاثرہ علاقوں کے ساتھ ساتھ تکنیکی و تجارتی نقصانات کا بھی تعین کیا جا سکے۔وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے اور شفاف و قابلِ اعتماد طریق کار کے تحت آڈٹ کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس مقصد کے لیے جلد ہی موزوں تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی غرض سے اظہارِ دلچسپی (ای او آئی) جاری کیا جائے گا۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تکنیکی آڈٹ کے ضابط کار (ٹی او آرز) آئندہ ہفتے تک حتمی شکل دے دیے جائیں گے۔سینیٹر احد چیمہ نے زور دیا کہ آڈٹ میں بجلی چوری اور نقصانات کی بنیادی وجوہات کا جامع تشخیصی تجزیہ کیا جائے اور اس کی بنیاد پر قابلِ اعتماد اور قابلِ عمل نتائج پیش کیے جائیں۔سینیٹر احد چیمہ نے کہا، حکومت بجلی چوری میں کمی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ کسی صورت بجلی چوری یا تقسیم کے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ زائد بلنگ کسی طور قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آڈٹ کے نتائج حکومت کو بجلی چوری اور تقسیم کے نقصانات میں کمی کے لیے ہدفی اور شواہد پر مبنی اقدامات کرنے میں مدد دیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ گردشی قرضے میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ پاور ڈویژن کمیٹی کے مقاصد کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور بجلی چوری و نقصانات پر قابو پانے کے لیے سرگرمِ عمل ہے، خصوصا ان ڈسکوز میں جہاں بجلی چوری کی شرح زیادہ ہے۔کمیٹی کو پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے زیرِ انتظام ان علاقوں میں جاری ترغیبی بنیادوں پر سولرائزیشن کے پائلٹ منصوبوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی جہاں بجلی چوری اور تقسیم کے نقصانات زیادہ ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد بجلی کے نیٹ ورک پر دبا کم کرنا اور بجلی چوری و لائن لاسز کے مستقل مسئلے سے نمٹنے میں مدد دینا ہے۔کمیٹی نے جاری ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کا جائزہ لیا اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی، نگرانی بہتر بنانے اور تقسیم کے نظام میں جواب دہی مضبوط کرنے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار کے مثر استعمال پر زور دیا۔وفاقی وزیر احد چیمہ اور وفاقی وزیر اویس لغاری نے زائد بلنگ کے مسئلے پر ہونے والی پیش رفت کا نوٹس لیا، تاہم واضح کیا کہ کسی ڈسکو کو بجلی چوری، نقصانات یا انتظامی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے اضافی بلنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تقسیم کے نظام کی خامیوں کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔کمیٹی نے ڈسکوز کی ریکوری کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا اور رواں سال ہونے والی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر احد چیمہ اور وفاقی وزیر اویس لغاری نے زور دیا کہ بہتر طرزِ حکمرانی، مثر نگرانی، ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات اور زیادہ نقصانات والے علاقوں میں ہدفی اقدامات کے ذریعے اس پیش رفت کو برقرار رکھا جائے۔
اہم خبرپاکستان
بجلی چوری کی نشاندہی اور نقصانات میں کمی کے لیے تمام ڈسکوز کے تکنیکی آڈٹ کا فیصلہ
