کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کے معزز ڈویڑن بینچ نے آئینی درخواست C.P. No. 1162/2026 پر فیصلہ سناتے ہوئے نادرا کی جانب سے پٹیشنرز کے شناختی کارڈز کو یکطرفہ طور پر ڈیجیٹل طور پر بلاک کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بلاک شدہ شناختی کارڈز اور متعلقہ ریکارڈ فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔عدالتِ عالیہ نے مہر علی و دیگر کی جانب سے دائر آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے نادرا کو ہدایت کی کہ پٹیشنرز کے بلاک شدہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) اور متعلقہ ریکارڈ کو نادرا کے مرکزی ڈیٹا بیس میں فوری اور غیر مشروط طور پر بحال کیا جائے۔مقدمے میں پٹیشنرز کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل جمیل رمضان دہوار ایڈووکیٹ (جمیل لاءفرم، کوئٹہ) نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نادرا کو شہریوں کے شناختی کارڈز یکطرفہ طور پر بلاک کرکے انہیں بنیادی شہری سہولیات سے محروم کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ انہوں نے عدالت کے سامنے مو¿قف رکھا کہ پٹیشنرز کو شوکاز نوٹس جاری کیے بغیر اور موثر سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر شناختی کارڈز بلاک کیے گئے، جو آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 4، 9، 10-A اور 14 میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔عدالت نے درخواست گزاروں کے آئینی مو¿قف اور وکیل کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد نادرا کی جانب سے شناختی کارڈز بلاک کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ شناختی کارڈز اور ریکارڈ کی بحالی کا حکم جاری کیا۔درخواست گزاروں کے وکیل کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق اور شناختی دستاویزات کے حوالے سے قانونی تحفظ کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اہم خبربلوچستان
بلوچستان ہائی کورٹ کا نادرا کو بلاک شدہ شناختی کارڈز فوری بحال کرنے کا حکم
