اسلام آباد : پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز آج پیر سے اسلام آباد میں ہوگا، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خزانہ کریں گے جبکہ آئی ایم ایف مشن چیف کی سربراہی میں وفد مذاکرات میں شریک ہوگا۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کا ابتدائی سلسلہ 23 ستمبر سے کراچی میں جاری ہے جو 7 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ مذاکرات دو مراحل میں ہوں گے، پہلے مرحلے میں تکنیکی سطح پر معاشی اعداد و شمار اور مطلوبہ معلومات آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی جائیں گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں پالیسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق توسیعی فنڈ سہولت اور موسمیاتی مالی معاونت کے دونوں پروگراموں کے جائزے بیک وقت کیے جائیں گے۔ مذاکرات کے دوران گزشتہ مالی سال کی آخری ششماہی میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ معاشی صورتحال اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات میں پیش رفت بھی زیر غور آئے گی۔وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان دونوں پروگراموں سے متعلق اہم اہداف حاصل کر چکا ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو آئندہ اقساط میں مجموعی طور پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی رقم ملنے کی توقع ہے۔توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے چوتھے جائزے جبکہ موسمیاتی مالی معاونت پروگرام کے تیسرے جائزے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔ جائزوں کی تکمیل کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کی پانچویں قسط اور موسمیاتی مالی معاونت پروگرام کی تیسری قسط جاری کیے جانے کی راہ ہموار ہوگی۔حکام کے مطابق دونوں پروگراموں کے تحت اب تک پاکستان کو آئی ایم ایف سے مجموعی طور پر 4 ارب 60 کروڑ ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ بیک وقت دو قرض پروگراموں کا حصہ ہے۔ ان میں 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا توسیعی فنڈ سہولت پروگرام جبکہ
اہم خبرپاکستان
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان باضابطہ مذاکرات کل اسلام آباد میں
