اہم خبربلوچستان

وزیراعلیٰ کی معافیاں ختم، اب عملی اقدامات کرنا ہوں گے,مولانا عبدالواسع

کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، حکومت کی جانب سے بار بار معذرتیں کافی نہیں، اب عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اتنی معافیاں مانگ لی ہیں کہ اب معافی کا لفظ بھی بدنام ہوگیا ہے۔ اگر حکومت نے مدارس کی رجسٹریشن، معدنیات ایکٹ، فورتھ شیڈول اور دیگر اہم معاملات پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو جمعیت علمائے اسلام دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ سینیٹر عبدالشکور غیبیزئی کو چین جانے سے روکا گیا اور بتایا گیا کہ ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہے، بعد ازاں حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ یہ غلطی تھی۔ اب رکن بلوچستان اسمبلی حاجی زابد ریکی کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا معاملہ پیش آیا اور بعد میں اسے بھی غلطی قرار دے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ غلطیاں ہیں تو بار بار ایک ہی جماعت اور اس کے رہنماؤں کے ساتھ ہی کیوں ہوتی ہیں؟ ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ سیکریٹری داخلہ، چیف سیکریٹری یا جو بھی اس معاملے کا ذمہ دار ہے، اس کے خلاف عملی کارروائی ہونی چاہیے۔ صرف معذرت کرلینے سے معاملات ختم نہیں ہوتے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان یا تو بے اختیار ہیں یا پھر یہ ان کے فیصلے کرنے کا طریقہ ہے کہ پہلے فیصلہ کیا جاتا ہے، پھر مخالفت پر معذرت کی جاتی ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان کے ہزاروں شہریوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے ہیں اور متعدد افراد کے شناختی کارڈ بلاک ہیں۔ بعض علاقوں میں پوست کی کاشت کے نام پر بھی شہریوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فورتھ شیڈول کا مقصد کیا ہے؟

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *