اہم خبرپاکستان

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد فی الحال بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ گورنر خیبرپختونخوا کے اختیارات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے تمام انتظامی اختیارات بھی گورنر کو منتقل کردیے ہیں۔وفاقی حکومت نے 4 نومبر کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد تیسرا حکمنامہ جاری کردیا ہے، اس سے قبل 11 اکتوبر کو صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق 2 الگ الگ حکمنامے جاری کیے گئے تھے۔وفاقی حکومت کے تیسرے حکمنامے میں 4 اہم نکات شامل کیے گئے ہیں۔رولز آف بزنس 1985 کے تحت وزیراعلیٰ کے تمام انتظامی اختیارات گورنر خیبرپختونخوا کو تفویض کردیے گئے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد گورنر ان تمام اتھارٹیز اور اداروں کے اجلاسوں کی صدارت کرسکیں گے جن کی سربراہی پہلے وزیراعلیٰ کرتے تھے۔ اس کے علاوہ گورنر مشاورتی کونسل میں مشیروں کی تعداد میں مزید اضافہ بھی کرسکیں گے۔وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے پہلے 12 اضلاع کے بعد باقی 25 اضلاع میں بھی بلدیاتی انتخابات کا راستہ روک دیا ہے اور آئین کے آرٹیکل 140A کو معطل کردیا ہے۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ ہفتے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کے احکامات دیے تھے۔ تاہم وفاقی حکومت نے پہلے آرڈر نمبر 2 کے تحت 12 اضلاع اور اب تیسرے حکمنامے کے ذریعے باقی 25 اضلاع میں بھی آرٹیکل 140A معطل کردیا ہے۔محکمہ بلدیات کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم کرنا چاہتی ہے۔ موجودہ بلدیاتی نظام میں ضلعی حکومت کا نظام موجود نہیں ہے۔ وفاقی حکومت قومی اسمبلی کے ذریعے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرکے نیا بلدیاتی نظام متعارف کرانا چاہتی ہے، اسی لیے مجوزہ ترامیم تک بلدیاتی انتخابات مو¿خر کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبرپختونخوا حکومت سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کے ادوار میں منظور کیے گئے 74 قوانین پر بھی نظرثانی کررہی ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *