پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں عیدالفطر کے موقع پر مبینہ طور پر بلوچ عسکریت پسندوں کی کچھ ویڈیوز وائرل ہو رہی تھیں، جس میں وہ بظاہر عید کے اجتماعات سے خطاب کر رہے تھے۔ ان ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد مختلف علاقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بعض ماہرین عید کے اجتماعات سے خطاب کو ایک منفرد نوعیت کی سرگرمی قرار دے رہے ہیں، تاہم عسکریت پسندوں کی عوامی مقامات اور بازاروں میں آمد اور کارروائیوں کا سلسلہ 2024 میں شروع ہوا تھا جو تاحال جاری ہے۔
عسکریت پسندوں کی ایسی کارروائیاں زیادہ تر دُوردراز کے علاقوں سے رپورٹ ہو رہی ہیں جن میں شاہراہوں کی ناکہ بندی، شہری علاقوں میں داخل ہونے اور وہاں کئی گھنٹوں تک موجود رہنے اور لوگوں سے بات چیت جیسے واقعات شامل ہیں۔
اگرچہ اس طرح کی سرگرمیوں اور کارروائیوں پر سکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں لیکن حکام کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں حکومت کی رٹ ہر جگہ موجود ہے۔
حکام کے مطابق سکیورٹی سخت ہونے کی وجہ سے یہ لوگ کسی شہری علاقے میں داخل نہیں ہو سکے بلکہ دُوردراز کے علاقوں میں اپنے ’بیرونی آقاؤں‘ کو خوش کرنے کے لیے ویڈیو بنا کر فرار ہو گئے۔
