اسلام آباد کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کے قتل کے مقدمے میں مجرم عمر حیات کو موت کی سزا سنا دی ہے۔
منگل کو اسلام آباد کی ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عمر حیات کو مقتولہ کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے بطور زرِ تلافی ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
اس کے علاوہ ثنا یوسف کے گھر پر ڈکیتی کے جرم سمیت متعدد دفعات کے تحت عمر حیات کو مجموعی طور پر 21 برس قید بامشقت کی سزا بھی سنائی ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق مجرم پر دیگر دفعات کے تحت مزید پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
عدالت نے مقدمے کا فیصلہ مجرم عمر حیات کی موجودگی میں سنایا۔
پولیس کے مطابق ثنا یوسف کو دو جون سنہ 2025 کو قتل کیا گیا، جس کے دو روز بعد ملزم عمر حیات کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
پولیس نے اس کیس میں آلہ قتل کے علاوہ ملزم سے ثنا یوسف کا آئی فون برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا جسے اس کیس میں اہم ثبوت سمجھا گیا، جبکہ پراسیکیوشن نے دو چشم دید گواہان کے بیانات بھی عدالت میں قلمبند کروائے جن میں ثنا یوسف کی والدہ اور پھپھو شامل تھیں۔
جج افضل مجوکا کی عدالت میں حتمی دلائل کے دوران استغاثہ نے عدالتی سماعت کے دوران ملزم کو سزائے موت دینے کی استدعا کی تھی، جبکہ ملزم کے وکیل نے مطالبہ کیا کہ ’اس ڈر سے فیصلہ نہ کریں کہ این جی اوز سڑکوں پر نکل آئیں گی۔‘
ثنا یوسف قتل کیس میں استغاثہ نے اپنے حتمی دلائل میں عدالت سے ملزم عمر حیات کو سزائے موت دینے کی استدعا کی تھی۔
سرکاری وکیل راجہ نوید حسین کیانی نے عدالت کو بتایا تھا کہ پراسیکیوشن نے 27 گواہان کو عدالت میں پیش کیا جن میں دو چشم دید گواہ یعنی ثنا یوسف کی والدہ فرزانہ یوسف اور پھپھو لطیفہ شاہ بھی شامل ہیں۔ ’چشم دید گواہان نے بتایا کہ انھوں نے (اڈیالہ جیل میں) شناخت پریڈ سے پہلے ملزم کی تصویر وغیرہ نہیں دیکھی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے میں گھر کے نمبر کی غلطی کی تصحیح کی جا چکی ہے۔
انھوں نے ڈاکٹرز کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقتولہ کو گولیاں لگنے سے ’سیریئس انجریز تھیں (یعنی) قتل کے ارادے سے ہی فائر کیے گئے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ملزم سے برآمد کیے گئے ثنا یوسف کے آئی فون سے ملزم عمر حیات عرف کاکا کا نمبر ملا۔ راجہ نوید حسین کیانی کا کہنا تھا کہ ’ملزم ثنا یوسف کا موبائل ساتھ لے گیا تاکہ ریجیکشن سمیت دیگر چیزوں کے ثبوت ختم کرے۔‘
دوسری طرف ملزم عمرحیات کے وکیل نے حتمی دلائل میں کہا کہ ’پہلے سے سوچ کر رکھنا کہ ملزم کو سزائے موت دینی ہی دینی ہے، یہ زیادتی ہوگی۔‘ انھوں نے کہا کہ ملزم کو فیئر ٹرائل کا آئینی حق ملنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر وکیل اور جج کے درمیان رنجش پیدا ہوتی ہے تو ملزم کے ٹرائل پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے۔‘
اس موقع پر جج افضل مجوکا نے وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ ’میرے سامنے میڈیا ٹاک نہ کریں۔‘
وکیل ملزم کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے سٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور اس حوالے سے دو درخواستیں ہائیکورٹ میں زیرِ التوا ہیں۔ جج افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ ’200 درخواستیں ہائیکورٹ میں زیر التوا ہوں تو بھی مجھے کوئی خوف نہیں۔ عدالت کو گمراہ نہ کریں۔‘
ملزم کے وکیل نے مزید کہا کہ ’کیس کو خواتین پر مبنی معاشرتی بحث کی طرف نہ لے جائیں۔۔۔ اس ڈر سے فیصلہ نہ کریں کہ این جی اوز سڑکوں پر نکل آئیں گی۔‘
