احسن عباس ایبٹ آباد کے رہائشی ہیں مگر روزگار کے سلسلے میں طویل عرصے سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ تقریباً چھ سال قبل انھوں نے اسلام آباد کی ایک نجی ہاؤسنگ سکیم میں دس مرلے کا رہائشی پلاٹ حاصل کرنے کے لیے 19 لاکھ روپے ایڈوانس جمع کروائے اور اس کے بعد آنے والے مہینوں میں وہ وقت پر اقساط بھی جمع کرواتے رہے۔
احسن عباس کے مطابق ہاؤسنگ سکیم کی انتظامیہ نے اس پلاٹ کی فائل انھیں اس وعدے پر فروخت کی تھی کہ مجموعی قیمت یعنی 95 لاکھ کا نصف ادا کرنے پر اُن کی فائل پر پلاٹ نمبر لگا دیا جائے گا اور انھیں قبضہ بھی دے دیا جائے گا تاہم چھ سال گزرنے اور رقم کی ادائیگی کے باوجود یہ وعدے پورے نہیں ہوئے۔
احسن اب مجموعی طور پر 55 لاکھ روپے اس 10 مرلہ فائل کے عوض ادا کر چکے ہیں اور ان کے مطابق گذشتہ برسوں کے دوران سوسائٹی انتظامیہ کے دفتر کے درجنوں چکر لگانے کے باوجود انھیں کچھ حاصل وصول نہیں ہو سکا ہے۔
’پہلے تو کہا جاتا رہا کہ کل آنا، پرسوں آنا، یا یہ کہ ابھی ترقیاتی کام ہو رہا ہے، جس کے فوراً بعد پلاٹس آن گراؤنڈ ہوں گے۔ میری خون پسینے کی کمائی ہے مگر اس کے عوض برسوں سے چکر دیے جا رہے ہیں۔‘
ایبٹ آباد کے ہی رہائشی منظور خان کی کہانی بھی احسن سے ملتی جلتی ہے۔
انھوں نے سنہ 2018 میں اسلام آباد ایئرپورٹ کے نزدیک ایک سوسائٹی میں پلاٹ حاصل کرنے کے لیے ساڑھے سات لاکھ روپے ایڈوانس جمع کروائے اور پھر ہر ماہ قسطیں جمع کرواتے رہے۔ اُن کے مطابق مجموعی طور پر انھوں نے ابتدائی دو برسوں میں 21 لاکھ روپے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے اکاؤنٹ میں جمع کروائے۔
منظور کے مطابق جب مقررہ وقت پر اور مقررہ قیمت جمع کروانے کے بعد وہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ کا قبضہ لینے پہنچے تو انتظامیہ نے انھیں جلد از جلد ڈویلپمنٹ چارجز جمع کروانے کی ہدایت کی اور وعدہ کیا کہ یہ چارجز جمع کرواتے ہی ان کی فائل کو نمبر الاٹ کر دیا جائے گا۔
منظور خان کا کہنا ہے انھیں ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ ان کا پلاٹ سوسائٹی کے ’سیکڑ 11‘ میں ہو گا۔ ’جب ڈویلپمنٹ چارجز بھی دے دیے، تو کچھ عرصہ بعد بتایا گیا کہ ہم آپ کا پلاٹ سیکٹر 11 سے سیکٹر چھ میں منتقل کر دیں گے جہاں پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے۔ وہ دن اور آج کا دن، آئے روز نیا دعدہ کر کے مجھے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ جب بھی سوسائٹی کے بتائے ہوئے مقام پر جاتے ہیں تو وہاں ایک، دو مشینیں سست رفتاری سے کام کر رہی ہوتی ہیں۔ یہ مشینیں یہاں صرف اس لیے ہیں تاکہ اور لوگوں کو گھیرا جا سکے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے بچوں کا پیٹ کاٹ کر پیسے جمع کیے اور انھیں دیے۔ اب مجھے کچھ پتا نہیں کہ کیا ہو گا اور کیا نہیں۔‘
یہ کہانیاں صرف احسن اور منظور تک محدود نہیں، ایسے ہزاروں متاثرین ہیں جو رقم جمع کروانے کے باوجود آج تک پلاٹ حاصل نہیں سکے۔
وفاقی ترقیاتی ادارے، سی ڈی اے، کے مطابق صرف اسلام آباد میں کم از کم 98 ہاوسنگ سوسائیٹیاں غیر قانونی ہیں۔ اسی طرح راولپنڈی ڈولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق اُن کی حدود میں 294 ہاؤسنگ سوسائیٹیاں اور سکیمز غیر قانونی ہیں۔
قومی احتساب بیورو کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران کچھ عرصے کے دوران انھوں نے راولپنڈی، اسلام آباد میں درجن سے زائد ہاوسنگ سوسائیٹیوں کے خلاف کاروائی کرکے مجموعی طور پر تقریباً 320 کروڑ روپے متاثریں کو واپس دلائے ہیں۔ تاہم پراپرٹی کی مارکیٹ سے وابستہ افراد کے مطابق ممکنہ طور پر اس نوعیت کے فراڈ کا حجم اس سے کئی گنا زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ بیشتر متاثرین قانون نافذ کرنے والے ادروں سے رجوع بھی نہیں کرتے ہیں۔
احسن عباس بتاتے ہیں کہ انھوں نے پلاٹ کی فائل اپنے ایک رشتہ دار پراپرٹی ڈیلر سے لی تھی جس نے انھیں ’محفوظ سرمایہ کاری‘ کا خواب دکھایا تھا۔
