اہم خبر

مصنوعی ذہانت سے گمراہ کن ویڈیوز بنانے کی ’صنعت‘ کیسے پاکستانی نوجوانوں کی کمائی کا ذریعہ بنی

یہ ایک ایسی ابھرتی ہوئی ’صنعت‘ ہے جہاں سکرین شاٹس میں ہزاروں ڈالروں کی آمدن کا دعویٰ بعض اوقات ان لوگوں کی طرف سے کیا جاتا ہے جنھیں انگریزی آتی ہے نہ اپنے عمل سے ہونے والے ممکنہ نقصان کا اندازہ ہے۔

چاہے بات امریکہ اور برطانیہ میں پناہ گزین مخالف اور اسلاموفوبیا پر مبنی پراپیگنڈے کی ہو، ایران جنگ کے دوران گمراہ کن بیانیے کی یا پاکستان میں 2025 کے سیلاب سے متاثرہ خواتین کی جنسی نوعیت کی فیک ویڈیوز کی ہو۔ ان سب میں ’اے سلوپ‘ قدر مشترک ہے۔

ماہرین کے بقول اے سلوپ یعنی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ’غیر معیاری‘ ویڈیوز اور تصاویر ایک ڈیجیٹل اکانومی کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔

پاکستان سے جڑے ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آمدن کمانے کے لیے بیرون ملک بیٹھے صارف کسی اے آئی ویڈیوز میں برطانوی شہری ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور وہ امیگریشن یا اسلام کے خلاف مقامی لوگوں کے جذبات ابھارتے ہیں۔

سوشل میڈیا کمپنیوں کی مونیٹائزیشن پالیسیوں کی بدولت ویڈیو پر جتنی زیادہ انگیجمنٹ ہوتی ہے، کونٹینٹ کری ایٹرز اتنی زیادہ آمدن حاصل کرتا ہے۔

مثلاً دی بیورو آف انویسٹیگیٹو جرنلزم نے حال ہی میں ایک پاکستانی شہری سے بات کی جنھوں نے برطانوی آڈیئنس کو نسل پرستانہ اے آئی ویڈیوز دکھا کر ہزاروں ڈالر کمائے۔ ایک ویڈیو میں تو برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹامر کو بھی دکھایا گیا جس سے امیگریشن کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلی۔ اس شخص نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وائرل اور ٹرینڈ ہوتی چیزوں کو سمجھے بغیر آمدن کمانے کے لیے اے آئی سے ویڈیوز بناتے تھے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں خبروں میں کوئی دلچسپی نہیں۔ میں نے تو یہ تک نہیں دیکھا کہ ویڈیوز میں کیا کہا جا رہا ہے، کیا لکھا گیا ہے اور کیا نہیں لکھا گیا۔‘

حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے الزام عائد کیا تھا کہ کئی ممالک امریکہ، اسرائیل اتحاد کو نقصان پہنچانے کے لیے ’بوٹ فارمز‘ اور ’جعلی پتوں‘ (ایڈریس) کا استعمال کرتے ہیں۔
اس کی مثال دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ’آپ اس نوعیت کا ٹیکسٹ میسج سُنتے ہیں کہ میں ٹیکساس (امریکہ) سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ اسرائیل کو سپورٹ کیا، لیکن اب میں اُن (اسرائیل) کے اقدامات سے سخت ناخوش ہوں اور اسرائیل کے خلاف ہو رہا ہوں۔۔۔ اِس کا پتہ پاکستان کے کسی بیسمنٹ (تہہ خانہ) کا نکلتا ہے۔‘

ہم نے اس تحریر میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اے سلوپ ایک خطرناک رجحان میں کیسے تبدیل ہو رہا ہے، کیا پاکستان میں اس کی منظم موجودگی ہے اور ملک کو اس سے کیا نقصان ہو سکتا ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *