’گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت دیگر تمام افراد کے اہلِ خانہ ان کے اغوا کے باعث شدید تشویش میں مبتلا ہیں، تاہم ہماری پریشانی اس لیے زیادہ ہے کہ میرے والد شوگر کے مریض ہیں اور انھیں ہر وقت ادویات کی ضرورت رہتی ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کے بیٹے حمید نے کہا کہ ’ہم دعا گو ہیں کہ والد صاحب اور دیگر افراد بحفاظت اپنے گھروں کو واپس پہنچ جائیں۔‘
گوادر یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد، پرسنل سٹاف آفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد بلیدی اور ڈرائیور حاتم بدل 13 مئی کو گوادر سے کوئٹہ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے۔
سرکاری حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ان افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے، تاہم تاحال کسی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ان اساتذہ کے لاپتہ ہونے کے دو روز بعد، 16 مئی کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے نوشکی میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو قتل کر دیا تھا۔
تاحال تین پی ایچ ڈی اساتذہ کے اغوا اور ایک اسسٹنٹ پروفیسر کے قتل کے محرکات کے حوالے سے پولیس حکام کی جانب سے میڈیا کو کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔
تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
اساتذہ کے اغوا اور اس کے بعد نوشکی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے قتل کے واقعات سے تعلیمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ اساتذہ تنظیموں نے حکومت سے سکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور دیگر اہلکار یونیورسٹی کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے کوئٹہ آ رہے تھے، جو گورنر ہاؤس میں منعقد ہونا تھا۔
وائس چانسلر کے بیٹے حمید اختر نے بتایا کہ وائس چانسلر اور اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے دیگر افراد دو گاڑیوں میں گوادر سے روانہ ہوئے تھے۔ ان کے مطابق ڈین اور رجسٹرار ایک گاڑی میں تھے، جبکہ وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، پرسنل اسٹاف آفیسر اور ان کا ڈرائیور دوسری گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈین اور رجسٹرار تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے پہلے روانہ ہوئے تھے، جس کی وجہ سے وہ کوئٹہ پہنچ گئے، لیکن وائس چانسلر اور دیگر افراد منزل تک نہ پہنچ سکے۔
حمید اختر کے مطابق ’جب وائس چانسلر اور ان کے ساتھ آنے والے دیگر افراد مقررہ وقت پر نہ پہنچے تو یونیورسٹی حکام نے ان سے رابطے کی کوشش کی، تاہم ان کے موبائل فون بند جا رہے تھے۔‘
انھوں نے بتایا کہ نمبرز بند آنے کے بعد کوئٹہ سے ان سے رابطہ کیا گیا اور دریافت کیا گیا کہ آیا ان کے والد گھر پہنچے ہیں یا نہیں، جس پر انھوں نے بتایا کہ وہ تاحال نہیں پہنچے۔
حمید اختر نے کہا کہ ’ہمیں شام تقریباً سات بجے کے بعد اس وقت والد اور دیگر افراد کے لاپتہ ہونے کا علم ہوا جب یونیورسٹی حکام نے ہم سے رابطہ کیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب انھوں نے والد کے نمبر پر بار بار کال کی تو وہ مسلسل بند مل رہا تھا، جس سے تشویش میں اضافہ ہوا۔
دریں اثنا، گوادر یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر دولت خان نے فون پر بتایا کہ وائس چانسلر اور دیگر افراد سے ان کا آخری رابطہ سہ پہر چار بجے ہوا تھا، جب وہ قلات میں موجود تھے۔
ان کے مطابق اس حساب سے انھیں شام سات بجے تک کوئٹہ پہنچ جانا چاہیے تھا، لیکن جب ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو تمام نمبرز بند جا رہے تھے، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو اطلاع دے دی گئی۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور دیگر اہلکار یونیورسٹی کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے کوئٹہ آ رہے تھے، جو گورنر ہاؤس میں منعقد ہونا تھا۔
وائس چانسلر کے بیٹے حمید اختر نے بتایا کہ وائس چانسلر اور اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے دیگر افراد دو گاڑیوں میں گوادر سے روانہ ہوئے تھے۔ ان کے مطابق ڈین اور رجسٹرار ایک گاڑی میں تھے، جبکہ وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، پرسنل اسٹاف آفیسر اور ان کا ڈرائیور دوسری گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈین اور رجسٹرار تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے پہلے روانہ ہوئے تھے، جس کی وجہ سے وہ کوئٹہ پہنچ گئے، لیکن وائس چانسلر اور دیگر افراد منزل تک نہ پہنچ سکے۔
حمید اختر کے مطابق ’جب وائس چانسلر اور ان کے ساتھ آنے والے دیگر افراد مقررہ وقت پر نہ پہنچے تو یونیورسٹی حکام نے ان سے رابطے کی کوشش کی، تاہم ان کے موبائل فون بند جا رہے تھے۔‘
انھوں نے بتایا کہ نمبرز بند آنے کے بعد کوئٹہ سے ان سے رابطہ کیا گیا اور دریافت کیا گیا کہ آیا ان کے والد گھر پہنچے ہیں یا نہیں، جس پر انھوں نے بتایا کہ وہ تاحال نہیں پہنچے۔
حمید اختر نے کہا کہ ’ہمیں شام تقریباً سات بجے کے بعد اس وقت والد اور دیگر افراد کے لاپتہ ہونے کا علم ہوا جب یونیورسٹی حکام نے ہم سے رابطہ کیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب انھوں نے والد کے نمبر پر بار بار کال کی تو وہ مسلسل بند مل رہا تھا، جس سے تشویش میں اضافہ ہوا۔
دریں اثنا، گوادر یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر دولت خان نے فون پر بتایا کہ وائس چانسلر اور دیگر افراد سے ان کا آخری رابطہ سہ پہر چار بجے ہوا تھا، جب وہ قلات میں موجود تھے۔
ان کے مطابق اس حساب سے انھیں شام سات بجے تک کوئٹہ پہنچ جانا چاہیے تھا، لیکن جب ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو تمام نمبرز بند جا رہے تھے، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو اطلاع دے دی گئی۔
