اہم خبرپاکستان

اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم، سیاسی دھرنوں، مارچ اور راستے بند کرنے پر پابندی

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقِ پاکستان کے خلاف دائر اہم رٹ پٹیشن کاتحریری فیصلہ جاری کردیاہے جس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیاسی جلسوں، مارچ اور دھرنوں کے نام پر راستے بند کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالتِ عالیہ نے واضح الفاظ میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت، رہنما یا صوبائی حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ عام شہریوں کی نقل و حرکت، روزگار، تعلیمی اور طبی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹ پیدا کرے۔ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلی پر کسی بھی قسم کا احتجاجی مارچ یا ریلی نکالنے کے لیے سرکاری وسائل، گاڑیوں اور عوامی فنڈز کے استعمال پر مکمل قدغن لگا دی گئی ہے۔ عدالت نے تمام صوبائی چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری ملازمین کو اعلی حکام یا سیاسی شخصیات کے غیر قانونی احکامات ماننے سے روکیں اور ان کے تحفظ کے لیے فوری طور پر ہیلپ لائنز قائم کریں۔ اگر کسی سرکاری اہلکار کو زبردستی جلسے یا جلوس میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی یا اس نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف سخت محکماتی و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔عدالت نے آئینی تشریح کرتے ہوئے انتباہ جاری کیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والے پبلک آفس ہولڈرز نہ صرف آئین شکن تصور ہوں گے بلکہ یہ ان کے اپنے عہدے کے آئینی حلف کی سنگین خلاف ورزی شمار ہوگی جس پر انہیں قانون کے مطابق سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔تحریری فیصلے کےمتن کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے متفرق درخواست C.M No. 03 of 2026 میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ و ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے الیکٹرانک مواد اور ویڈیو کلپس پیش کرنے کی استدعا منظور کر لی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ اگرچہ عام طور پر دلائل کے دوران ویڈیو کلپس چلانے کی اجازت نہیں دی جاتی، لیکن اس کیس کی مخصوص نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اجازت بطورِ خاص دی جاتی ہے۔ اصلی کیس کی کارروائی میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کی جانب سے حلف نامے جمع کرائے جا چکے ہیں جبکہ تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اور اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل بھی سنے جا چکے ہیں۔ عدالت نے تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کرنے کا ذکر کرتے ہوئے اس رٹ پٹیشن کو درج ذیل احکامات اور ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا ہے:کسی بھی سیاسی جماعت، سیاسی رہنما، صوبائی حکومت یا پبلک آفس ہولڈر کو یہ قانونی حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام آباد کی حدود میں یا اسلام آباد آنے والے کسی راستے، شاہراہ، انٹرچینج، ٹول پلازہ یا عمارت پر قبضہ کرے، بلاک کرے یا رکاوٹ ڈالے، تاکہ شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، تجارت، پیشے، طبی سہولیات اور تعلیمی اداروں تک رسائی میں کوئی خلل نہ پڑے۔تمام صوبائی حکومتیں بشمول وزرائے اعلی اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ اسلام آباد کی طرف انے والے کسی بھی مارچ، جلوس یا ریلی میں سرکاری وسائل، عوامی فنڈز یا اہلکاروں کو بلاواسطہ یا بالواسطہ استعمال نہ کیا جائے، نہ رقم اکٹھی کی جائے اور نہ ہی وہ اس میں شرکت کریں۔ اسی طرح صوبائی حکومتیں اور وزرائے اعلی اس بات کا بندوبست کریں گے کہ کسی بھی سرکاری گاڑی، مشینری یا دیگر سامان کا استعمال مظاہرین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے نہ ہو۔ کسی بھی سرکاری ملازم کو ایسے کسی مارچ یا ریلی میں شرکت کے لیے مجبور یا پابند نہیں کیا جائے گا۔اسلام آباد انتظامیہ اور وزارتِ داخلہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اسلام آباد میں مقیم کوئی بھی شخص ایسی سرگرمی نہ کرے جس سے شہریوں کے آئین کے آرٹیکل 9، 15، 18، 23، 24 اور 25A کے تحت حاصل شدہ بنیادی حقوق متاثر ہوں۔صوبائی چیف سیکرٹریز، تمام آئی جیز، سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر تمام حکام کو احکامات جاری کریں کہ کوئی بھی سرکاری اہلکار مارچ یا ریلی کی سہولت کاری کے غیر قانونی حکم کی تعمیل نہیں کرے گا۔ اگر کسی اہلکار پر ایسا دبا ڈالا جائے تو وہ فوری طور پر اپنے چیف سیکرٹری یا آئی جی کو مطلع کرے گا۔ کوئی بھی اہلکار کسی شخص کو راستہ روکنے یا آزادانہ نقل و حرکت متاثر کرنے والے جلوس کی اجازت نہیں دے گا۔ صوبائی چیف سیکرٹریز اور آئی جیز فوری ہیلپ لائنز بنائیں تاکہ ملازمین سیاسی دبا یا ترغیب کی رپورٹ کر سکیں، جبکہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے ملازمین کے خلاف فوری محکماتی کارروائی کی جائے گی۔عدالت نے اپنے حکم کے آخر میں واضح کیا ہے کہ کوئی بھی شخص جو شہریوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے والی سرگرمی کرے گا، اسے قانون کے تحت سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح اگر کوئی پبلک آفس ہولڈر شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا سبب بنے گا تو اسے اپنے آئینی حلف کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور وہ آئین و قانون کے تحت سزا کا حقدار ہوگ

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *