نیویارک : وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے، معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے اور مختلف شعبوں میں ساختی و پالیسی اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے، جبکہ زراعت، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی، معدنیات، بندرگاہوں، جہاز رانی، ادویات اور مینوفیکچرنگ سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بات نیویارک میں بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈر اسٹینڈنگ اور امریکہ پاکستان بزنس کونسل کے وفود سے ملاقات کے دوران کہی۔ وفد میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، فائنانس، مشروبات، مینوفیکچرنگ، ادویات اور آرگینک پراڈکٹس سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیات شریک تھیں۔ وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی کاروبار اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں اور معیشت کے مختلف شعبوں کی ترقی کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا بزنس کونسل اور بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈر اسٹینڈنگ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان بہترین پل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب مستحکم اور ترقی کی جانب گامزن ہے، تاہم خلیج کا بحران ایک مشکل مرحلے پر سامنے آیا۔ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور دوست و برادر ممالک کے تعاون سے خطے میں طویل مدتی امن کے حصول کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں طویل مدتی امن کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے انتہائی اہم ہے۔ پاکستان میں بڑے پیمانے پر ساختی اور پالیسی سطح کی اصلاحات کی جا رہی ہیں، جبکہ معیشت کو ڈیجیٹائز کرنے، ٹیکنالوجی کے فروغ اور ای گورننس کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کی بے پناہ استعداد موجود ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، اخراجات میں کمی اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کان کنی اور معدنیات کے شعبے کو بھی سرمایہ کاری کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو معدنی وسائل سے بے پناہ نوازا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں، حکومت انہیں پیشہ ورانہ تربیت اور جدید مہارتیں فراہم کر رہی ہے تاکہ انہیں ہنر اور روزگار کے مواقع دے کر خودمختار بنایا جا سکے۔ آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق اقدامات بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں اور جہاز رانی کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی بھرپور استعداد موجود ہے، جبکہ نجکاری سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا ایک اہم شعبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری ہو چکی ہے اور نئے پاکستانی مالکان اس میں بہتری لائیں گے، جبکہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی بھی نجکاری کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا کام نجی شعبے کے لیے کاروبار اور سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنا اور سازگار ماحول مہیا کرنا ہے۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاونین خصوصی طارق فاطمی اور بلال بن ثاقب، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار اور امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان احمد شیخ بھی شریک تھے۔
اہم خبرپاکستان
پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول، وسیع مواقع موجود ہیں,وزیراعظم
