دریجی \ حب: سینئر صوبائی نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کی قیادت میں بھوتانی برادران کے سیاسی گڑھ دریجی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے زیر اہتمام ایک بڑے سیاسی اجتماع کے دوران اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بھوتانی کاروان کے دیرینہ ساتھی صاحب خان چھٹہ نے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے ترجمان صدر آصف علی زرداری برائے بلوچستان و سابق صوبائی وزیر میر علی حسن زہری کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔دریں اثنائمیر علی حسن زہری کی دریجی آمد پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا جبکہ بہلور جلسہ گاہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ جلسے کے دوران صاحب خان چھٹہ نے اپنے ساتھیوں سمیت باقاعدہ طور پر پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صاحب خان چھٹہ نے کہا کہ بھوتانی برادران نے طویل عرصے سے دریجی کے عوام پر اپنا سیاسی اثر و رسوخ قائم رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام کو مختلف مسائل اور مبینہ ناانصافیوں کا سامنا ہے، جبکہ علاقے کے لوگوں کو زمینوں اور دیگر معاملات میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دریجی کے عوام کو سیاسی نعروں کے بجائے تعلیم، صحت، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔صاحب خان چھٹہ نے کہا کہ وہ میر علی حسن زہری کی سیاسی بصیرت اور عوامیخدمت کے جذبہ سے متاثر ہوکر پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے ہیں اور انہیں امید ہے کہ پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے دریجی کے عوام کے مسائل مو ¿ثر انداز میں اجاگر کیے جائیں گے۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے میر علی حسن زہری نے کہا کہ وہ ایک بار پھر دریجی آئے ہیں اور یہاں کے عوام نے ہمیشہ انہیں عزت اور محبت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاحب خان چھٹہ کی شمولیت ایک نئے سیاسی سفر کا آغاز ہے اور آنے والے دنوں میں مزید لوگ پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوں گے۔آج کا جلسہ میں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر یقین ہو گیا ہے کہ دریجی بھی بھوتانیوں کے ہاتھ سے گیا۔ ان کی سیاست اب صرف ان کے گھر کے ڈرائنگ روم تک رہ گئی ہے۔ یہ مکافات عمل ہے کیونکہ جس طرح بھوتانی برادران نے عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا اور صرف اور صرف اپنے مفادات کے لئے عوام کو ترقی کے ثمر سے محروم رکھااس کے نتائج ان کے سامنے ہیں کہ عوام بھوتانی برادران کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر پیپلز پارٹی کے عوام دوست منصوبوں اور ترقی کے تسلسل کو دیکھتے ہوئے ہمارے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔ میر علی حسن زہری نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلع حب کے تمام علاقوں، بالخصوص دریجی میں ترقیاتی کاموں پر توجہ دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے دریجی کی ترقی کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم آج بھی علاقے کے عوام صاف پانی، معیاری تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محض ذاتی عمارتیں تعمیر کرکے دریجی کو لٹل اسلام آبادیا لٹل پیرس قرار دینا کافی نہیں اصل ترقی وہ ہے جس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں اور عوام کو بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ بلوچستان کے نوجوانوں کے روزگار کے حوالے سے میر علی حسن زہری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی ادارے بلوچستان کی فلاح و بہبود اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں ترقی کے عمل میں آگے لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جلسے سے قبل مبینہ دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے میر علی حسن زہری نے دعویٰ کیا کہ انہیں دریجی میں جلسے سے روکنے کے لیے بھوتانی برادران سے وابستہ افراد نے لوگوں کو بی ایل اے کا نام استعمال کرکے خوفزدہ اور دھمکانے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق مبینہ دھمکیوں کا مقصد لوگوں کو جلسے میں شرکت سے روکنا اور سیاسی اجتماع کو ناکام بنانا تھالیکن اللہ کے فضل سے میں دریجی آیا بھی اور یہاں آج کا عظیم الشان جلسہ بھی ہواجس میں ہزاروں افراد نے شرکت کرکے یہ ثابت کردیا کہ عوام کو خوفزدہ کرکے ان کی سیاسی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ دریجی ایک پرامن علاقہ ہے اور کسی بھی مسلح تنظیم کا نام استعمال کرکے علاقے کا امن خراب کرنے یا عوام کو خوفزدہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ میر علی حسن زہری نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دریجی پاکستان کا حصہ ہے اور یہاں صرف پاکستان کا قانون چلے گا۔دریجی میں پیپلزپارٹی کے اس بڑے اجتماع اور سینکڑوں افراد کی شمولیت کو علاقے کی سیاسی صف بندی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ جلسے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضلع حب اور بالخصوص دریجی میں سیاسی رابطوں اور سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے، جبکہ میر علی حسن زہری نے مزید سیاسی شمولیتوں کا سلسلہ جاری رہنے کا اعلان کیا ہے۔
اہم خبربلوچستان
دریجی بھوتانیوں کے ہاتھ سے گیا، سیاست ڈرائنگ روم تک محدود ہوگئی,میر علی حسن زہری
