اہم خبرپاکستان

برآمدات پر مبنی معاشی ترقی، کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم: وزیراعظم

اسلام آباد : وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک کے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد نے وزیراعظم ہاو¿س میں ملاقات کی۔ ملاقات میں برآمدات پر مبنی معاشی ترقی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، صنعت و تجارت کو درپیش مسائل اور حکومتی معاشی اصلاحات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔وزیراعظم نے کاروباری برادری کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس سے استثنیٰ میں توسیع کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ملاقات کا مقصد برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے فروغ کے حوالے سے کاروباری برادری سے مشاورت ہے۔ بجٹ سازی کے دوران کاروباری برادری کی متعدد تجاویز کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت Ease of Doing Business کے لیے مو¿ثر اقدامات کر رہی ہے، جبکہ توانائی کی لاگت میں کمی بھی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔وزیراعظم نے حال ہی میں قائم کیے گئے ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کو تجارت کے فروغ کے لیے مضبوط اور مو¿ثر ادارہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کاروباری برادری سے بورڈ کے دائرہ کار اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے تجاویز طلب کیں۔ان کا کہنا تھا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ون ونڈو آپریشن کے تحت سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ غیر ضروری ریگولیٹری بوجھ کم کرنے کے لیے ریگولیٹری گلّوٹین پر کام جاری ہے، جس کا مقصد قواعد و ضوابط کو آسان، کمپلائنس لاگت کو کم اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید سہل بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے، جبکہ ایف بی آر نے گزشتہ مالی سال انفورسمنٹ کے ذریعے 800 ارب روپے اکٹھے کیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی معاشی ٹیم کی کوششوں سے ملک کے میکرو اکنامک حالات میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے، تاہم مائیکرو اکنامک سطح پر بہتری کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی تاکہ معاشی ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔انہوں نے صنعت کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت کی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر فراہم کرنا ضروری ہے۔وزیراعظم نے کاروباری برادری کے مسائل کے فوری اور دیرپا حل کے لیے متعلقہ حکام کو اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔اجلاس میں کاروباری شخصیات کو بتایا گیا کہ بندرگاہوں پر پورٹ چارجز میں کمی اور آپریشنل استعداد میں بہتری لائی گئی ہے۔ کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لیے موٹروے M-10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ M-13 (کھاریاں، راولپنڈی) کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان سفر کا فاصلہ کم ہوگا، جبکہ پاکستان ریلوے کی اپ گریڈیشن سے تجارتی سامان کی ترسیل مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔وفد کو بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ملک کی آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور حکومت 10 لاکھ افراد کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تربیت فراہم کر رہی ہے۔کاروباری شخصیات نے حکومت کی معاشی اصلاحات اور میکرو اکنامک استحکام کو سراہتے ہوئے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ، ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کو اہم اقدامات قرار دیا۔ کاروباری رہنماو¿ں نے پاکستان کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے کامیاب بانڈ اجرا کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے ملک میں بڑھتے ہوئے کاروباری اعتماد اور معاشی استحکام کی علامت قرار دیا۔وفد نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں خطے میں امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو بھی سراہا اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *