اسلام آباد : وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کی سہولیات عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے کا عملی آغاز کردیا ہے، شاہ اللہ دتہ میں قائم کیا جانے والا ڈیجیٹل ہیلتھ کلینک وفاقی دارالحکومت میں ٹیلی میڈیسن کے پہلے مرحلے کی تکمیل کی اہم کڑی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد کے 28 بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کو بھی ٹیلی میڈیسن کی سہولت سے آراستہ کیا جائے گا۔ شاہ اللہ دتہ میں ڈیجیٹل ہیلتھ کلینک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ شاہ اللہ دتہ اسلام آباد کا ایک گاو¿ں ہے جہاں سے شہر کے مرکزی علاقوں تک پہنچنے میں تقریباً 40 منٹ لگتے ہیں، جبکہ کسی ہنگامی صورتحال میں مریض کو ہسپتال پہنچنے میں کم از کم 45 منٹ درکار ہوسکتے ہیں۔ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے اب دور دراز علاقوں کے مریضوں کو بروقت ماہر طبی مشاورت فراہم کی جاسکے گی۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ شاہ اللہ دتہ میں قائم ہونے والا مرکز وفاقی دارالحکومت کا دسواں ٹیلی میڈیسن کلینک ہے اور اس کے ساتھ ٹیلی میڈیسن منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ماہر ڈاکٹرز آن لائن یہاں کے مریضوں کو دیکھ سکیں گے، جبکہ پانچ مختلف شعبوں کے ماہرین مقررہ دنوں میں آن لائن دستیاب ہوں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈاکٹر مریض کو اسکرین پر براہ راست دیکھ سکے گا اور مریض کی نبض سمیت اہم طبی معلومات بھی ڈاکٹر کو اسی وقت آن لائن دستیاب ہوں گی۔ ہم نے فاصلے ختم کردیے ہیں، دنیا کے ماہر ڈاکٹر کو یہاں آکر بیٹھنے کی ضرورت نہیں، جدید تقاضوں کے مطابق ٹیکنالوجی کو صحت کے شعبے میں استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت صحت نے صحت کہانی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جس کے ذریعے ہزاروں افراد کا علاج ہوچکا ہے۔ دنیا بھر میں موجود ماہرین بیٹھ کر یہاں کے مریضوں کا علاج اور طبی مشاورت فراہم کررہے ہیں۔ اب مریض کو اپنی دہلیز پر دنیا کے بہترین ڈاکٹر تک رسائی حاصل ہوگی۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی حکومت نے یہ کرکے دکھایا ہے اور یہ صرف پہلا مرحلہ ہے، اگلے مرحلے میں مزید ٹیلی میڈیسن کلینکس قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہر مریض کو معمولی طبی مشاورت کے لیے پولی کلینک یا پمز جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، جبکہ ٹیلی میڈیسن مراکز کے اوقات کار میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ انتہائی عاجزی سے کہنا چاہتے ہیں کہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران وزارت صحت نے جتنا کام کیا، اتنا گزشتہ 30 سال میں نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا وزارت صحت کے گزشتہ 14 ماہ کے اقدامات گزشتہ 30 سال کے کاموں سے زیادہ ہیں۔ جب انہوں نے وزارت صحت کی ذمہ داری سنبھالی تو اسلام آباد کے ہسپتالوں میں تقریباً 2100 سے 2126 بیڈز کی گنجائش تھی، تاہم اب 2500 نئے بیڈز کا اضافہ کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی موجودہ گنجائش میں 100 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر حکومت نئے ہسپتال بنانے کا منصوبہ شروع کرتی تو اس میں تقریباً 25 سال لگ سکتے تھے، اس لیے موجودہ ہسپتالوں کی استعداد بڑھانے اور جدید طبی سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دی گئی۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ صحت سہولت کارڈ کی فائل کو ردی کی ٹوکری سے نکالا گیا ہے اور اب اسلام آباد کے 15 نجی ہسپتالوں میں شہریوں کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی، جس کی فیس حکومت پاکستان ادا کرے گی۔ مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پمز کا نیا ایمرجنسی وارڈ آئندہ 10 روز میں فعال ہونے جارہا ہے۔ 176 بیڈز پر مشتمل یہ ایمرجنسی وارڈ خطے کا سب سے بڑا ایمرجنسی وارڈ ہوگا، جس سے اسلام آباد اور گردونواح کے مریضوں کو ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
اہم خبربلوچستانصحت
اسلام آباد کے 28 بنیادی مراکز صحت ٹیلی میڈیسن سے آراستہ کیے جائیں گے، وزیر صحت
