اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں عدالتی نظام کو مزید شفاف، تیز اور مو¿ثر بنانے کے لیے ای فائلنگ اور یکساں ڈیجیٹل نظام کے نفاذ پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں مقدمات کی ای فائلنگ شروع کرنے اور عدالتوں میں یکساں ڈیجیٹل طریقہ کار اپنانے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹس، لا اینڈ جسٹس کمیشن اور عدالتی انتظامیہ کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ای فائلنگ کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت چاروں صوبوں اور اسلام آباد کی منتخب عدالتوں میں خاندانی مقدمات سے کیا جائے گا۔چیف جسٹس نے اجلاس کو ”ایک مقدمہ، ایک شناخت‘ منصوبے کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جس کے تحت ہر مقدمے کو اس کے مکمل عدالتی سفر کے دوران ایک منفرد شناختی نمبر دیا جائے گا۔ منصوبے کا ابتدائی مسودہ کمیٹی کے جائزے کے لیے پیش کردیا گیا ہے، جس کے بعد حتمی منظوری کے لیے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔اجلاس میں ای فائلنگ کے مجوزہ نمونے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ہدایت کی کہ ایسا جامع اور یکساں نظام تیار کیا جائے جو تمام صوبوں اور اسلام آباد میں بغیر کسی صوبائی فرق کے قابلِ استعمال ہو اور ججز، عدالتی عملے، وکلا اور سائلین کے لیے آسان ہو۔کمیٹی نے عدالتی مقدمات اور ڈیٹا کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے حال ہی میں شروع کیے گئے ڈیش بورڈ کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ متعلقہ ہائی کورٹس اپنے آئی ٹی نظام کے ذریعے ڈیٹا اپ ڈیٹ کر رہی ہیں، تاہم محکمہ جیل خانہ جات سے معلومات ایک ماہ کی تاخیر سے موصول ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے لا اینڈ جسٹس کمیشن کے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ ڈیٹا کی فراہمی میں تاخیر کا معاملہ متعلقہ حکام کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر اٹھایا جائے تاکہ عدالتی ڈیش بورڈ کو بروقت اپ ڈیٹ رکھا جاسکے۔اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ای فائلنگ، مقدمات کی منفرد شناخت اور عدالتی ڈیٹا کی بروقت دستیابی سے عدالتی امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے، شفافیت بڑھانے اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید مو¿ثر بنانے میں مدد ملے گی۔
اہم خبرپاکستان
سپریم کورٹ میں عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر اہم پیش رفت، ای فائلنگ متعارف کرانے کا فیصلہ
