اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے جبکہ صوبائی قیادت ایک قیدی کو چھڑانے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کررہی ہیں۔پیر کو وفاقی وزیر اطلاعات کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ سیکیورٹی فورسز کو مطلوبہ وسائل فراہم کرنے اور دہشت گردوں کے خلاف واضح موقف اپنانے میں ناکام رہی ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ چند دن پہلے امن میلہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں سویلینز اور دو ریسکیو اہلکار بھی شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جاری فوٹیج اور تصاویر کی جانچ سے یہ بات سامنے آئی کہ دہشت گرد افغانستان سے تعلق رکھتے تھے۔ طلال چوہدری نے مزید کہا کہ جب ہمارے لوگ شہید ہوتے ہیں تو دوسری طرف ڈالرز ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا عیادت کے لیے گئے اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس بھی کی مگر حملے کی مذمت نہیں کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ افغانستان کے دہشت گردوں اور پراکسیز کا نام کیوں نہیں لیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت نے سیکیورٹی فورسز کو قیادت فراہم نہیں کی اور ان کے پیچھے نہیں کھڑی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی، بلٹ پروف گاڑیوں اور ہتھیاروں کے بغیر لڑائی نہیں لڑی جا سکتی۔ آپ صرف این ایف سی اور آٹھ سو ارب کا حساب دیں۔ آپ نے بلٹ پروف گاڑیاں واپس کیں تاکہ سیاست کر سکیں اور نئے ایکٹ کے ذریعے پولیس کے اختیارات واپس لینے کی کوشش کی۔وفاقی وزیر اطلاعات عطائ اللہ تارڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی نیت بھی خراب ہے اور طبیعت بھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔ انہوں نے ساڑھے بارہ سال میں دہشت گردوں کی سہولت کاری کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن نہیں کی گئی تاکہ دہشت گردوں کا پتہ نہ چل سکے، حالانکہ رجسٹریشن سے اربوں روپے جمع ہو سکتے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے لوگ علاج کے لیے راولپنڈی آنے پر مجبور ہیں کیونکہ خیبرپختونخوا میں کوئی معیاری ہسپتال موجود نہیں ہے انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کی موجودگی میں دو افغان مندوبین قومی ترانے کے لیے نہیں کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اے این پی اور جے یو آئی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لاشیں اٹھائیں اور خون دیا۔۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ افغانستان کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ افغانستان کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کی اب تک مذمت نہیں کی گئی۔ خیبر پختونخوا دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے جبکہ صوبائی قیادت کی ساری توجہ ایک قیدی کو جیل سے رہا کرانے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں ہر سال اربوں روپے ملتے ہیں مگر کاو¿نٹر ٹیررازم کی مد میں ملنے والا پیسہ کہاں خرچ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث عناصر اپنے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ سہیل آفریدی انتظامی طور پر ناکام ہونے کے بعد اب سیاسی طور پر بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے اندر تباہی و بربادی پھیل چکی ہے اور دہشت گردی خود صوبائی حکومت نے پھیلائی، اس کا تدارک نہیں کیا۔ انہوں نے شہدائ کے والدین کے جذبے کو کبھی فراموش نہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔
اہم خبرپاکستان
پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے، وفاقی وزیر اطلاعات
