ایرانی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے میزان نے خبر دی ہے کہ جنوری میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے دو افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ ان افراد کو تہران میں ہونے والے ہنگاموں سے متعلق مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔
میزان نیوز ایجنسی کے مطابق ان افراد کی شناخت مہرداد محمدنیا اور اشکان ملکی کے ناموں سے کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں افراد پر عدالت نے ’مسجد کو آگ لگانے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں‘ جیسے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا اور بعد ازاں انھیں سزائے موت سنائی گئی۔
ایرانی عدلیہ کے مطابق دونوں افراد کی سزائے موت کو ملک کی سپریم کورٹ نے بھی توثیق کی تھی، جس کے بعد انھیں پھانسی دی گئی۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ایران سے متعلق خصوصی نمائندہ بھی شامل ہیں، نے ایران میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ مائی ساتو نے کہا ہے کہ ایران سزائے موت کو ’احتجاج کو دبانے، معاشرے میں خوف پیدا کرنے اور اختلاف رائے پر پابندی لگانے‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
