امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایک معاہدہ ’اگلے ہفتے‘ تک طے پا جائے گا۔
واشنگٹن میں اے بی سی کے سینیئر صحافی جوناتھن کارل سے ٹیلی فونک گفتگو میں انھوں نے کہا: ’صورتحال اچھی لگ رہی ہے، بہت اچھی۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید کہا: ’آج ایک چھوٹا سا مسئلہ پیش آیا، لیکن جیسا کہ آپ نے دیکھا ہی ہو گا، میں نے اسے بہت جلد حل کر دیا۔‘
ان کے مطابق یہ مسئلہ لبنان میں اسرائیلی حملوں پر ایرانی ناراضی کے باعث پیدا ہوا تھا۔
امریکی صدر نے کہا: ’میں نے حزب اللہ سے بات کی اور کہا کہ فائرنگ نہ کریں۔ میں نے بی بی (بنیامین نیتن یاہو، اسرائیلی وزیر اعظم) سے بھی بات کی اور کہا کہ فائرنگ نہ کریں۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ بند کر دی۔‘
انھوں نے کہا: ’یہ کوئی آسان معاملہ نہیں ہے۔ آپ ایک بہت بڑے ملک کی بات کر رہے ہیں جو ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ بہت گہری دشمنیاں موجود ہیں، اس لیے یہ ان کے لیے بھی آسان نہیں اور ہمارے لیے بھی نہیں۔ لیکن ہم اس طرف بڑھ رہے ہیں جو ہمیں درکار ہے۔‘
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کے حتمی ہونے اور دستخط کے وقت کے بارے میں انہوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ یہ اگلے ہفتے تک ہو جائے گا۔‘
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے ابھی تک اس معاہدے کو منظور نہیں کیا کیونکہ ان کے بقول ’ابھی چند مزید نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے۔‘
