اہم خبرپاکستان

ملاقاتیں نہ ہونے پر تشویش ہے، اسی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچے ہیں: بیرسٹر گوہر

راولپنڈی:چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ روڈ داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں نہ ہونے پر تشویش ہے، اسی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچے ہیں۔ بانی کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ملکی تاریخ میں کسی سیاسی قیدی کے ساتھ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں ہوتیں تو پیغامات آتے اور حالات بہتری کی جانب جاتے۔ ملاقاتوں کی درخواست پر عدالت کے حکم کے باوجود عمل نہیں کیا گیا، جبکہ سپریم کورٹ میں ہماری درخواستیں زیرِ التوا ہیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عدلیہ نے بھی ہمیں ہمیشہ مایوس کیا ہے، 26ویں ترمیم سے پہلے کی عدلیہ انتخابات نہ کروا سکی اور آج کی عدلیہ ایک ملاقات تک نہیں کروا سکی۔** ہمیں دیوار کے ساتھ لگا کر پارٹی کو دیوار میں چن دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہے، کیا عوام کے پاس پرامن احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے کا اختیار نہیں؟ ہم نے واضح کیا ہے کہ کسی کے ہاتھ میں لاٹھی یا غلیل نہیں ہوگی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر عدلیہ انصاف نہ دے اور پارلیمنٹ بات نہ سنے تو انصاف کے لیے کہاں جائیں؟ **ہم سڑکوں پر ہی جائیں گے۔ 27 ستمبر کے احتجاج کی کال اٹل ہے، اس پر نظرثانی نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی تناو¿ اور چپقلش سے عوام اکتا چکی ہے، حالات بہتر کرنے کے لیے سب کو ایک ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا۔بیرسٹر گوہر کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے اور ملاقاتوں سے متعلق عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ سندھ کی عوام نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا شاندار استقبال کیا، تاہم سندھ حکومت کی جانب سے راستے بند کرنا مناسب نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے **سٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو سونپی ہے۔صوبوں کے قیام کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ اور عوامی مسئلہ ہے، اس پر جلدبازی سے نقصان ہوگا۔ آبادی کے تناسب سے صوبے کبھی نہیں بنے، اگر آبادی ہی معیار ہے تو اترپردیش، جس کی آبادی تقریباً 25 کروڑ ہے، وہاں بھی تین تین کروڑ آبادی پر صوبے بنانے چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ پہلے ہی متنازع آئینی ترامیم کرچکی ہے، مزید ترمیم سے وفاق کمزور ہوگا۔دہشتگردی کے معاملے پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشتگردی کسی صورت نہیں ہونی چاہیے اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی خیبرپختونخوا اور دہشتگردی سے متعلق بیان پر انہوں نے کہا کہ ایک صوبے کے خلاف ایسا بیان مزید تناو¿ پیدا کرتا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ افواج پاکستان میں کسی افسر کی تعیناتی ان کا اندرونی معاملہ ہے، اسی طرح نیکٹا میں تعیناتی بھی متعلقہ ادارے کا اندرونی معاملہ ہے۔چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے وزیراعظم کو اپوزیشن لیڈر سے بات کرنے میں پہل کرنی چاہیے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت جنوری 2025 میں ختم ہوچکی ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بات چیت کا مینڈیٹ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے پاس ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *