اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت دانش اسکول اتھارٹی کی پہلی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں اتھارٹی کی تنظیم نو، افرادی قوت، مالی اثرات، انتظامی و حکمرانی کے نظام اور ادارہ جاتی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں دانش اسکولوں کی آئندہ 5 سے 10 سال تک مالی پائیداری یقینی بنانے، اساتذہ کی تربیت، تدریسی معیار میں بہتری اور اصلاحات پر مو¿ثر عملدرآمد کے لیے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔سیکرٹری تعلیم نے بریفنگ میں بتایا کہ دانش اسکول کا بنیادی مقصد مستحق اور غریب طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔ دانش اسکولوں میں طلبہ کو تعلیم کے ساتھ رہائش، خوراک اور دیگر ضروری سہولیات بھی بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے ہدایت کی کہ دانش اسکولوں میں اساتذہ کی بھرتی طلبہ اور اساتذہ کے مناسب تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے تاکہ تدریسی معیار برقرار رکھا جا سکے۔
احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق دانش اسکول غریب اور مستحق بچوں کو ایچی سن کالج کے معیار کی تعلیم فراہم کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دانش اسکول پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ معیاری تعلیم کے ذریعے ان علاقوں کے بچوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں اور ان علاقوں کی تقدیر بدلی جا سکے۔اجلاس میں دانش اسکولوں کے لیے درکار افرادی قوت کا ازسرنو جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی گئی تاکہ ضروریات کے مطابق مو¿ثر انتظامی اور تدریسی عملہ یقینی بنایا جا سکے۔ قومی نصاب کے حوالے سے وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ قومی نصاب کا فریم ورک 2026ئ وزیراعظم کو پیش کیا جائے تاکہ اس کے تفصیلی جائزے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جا سکے۔احسن اقبال نے کہا کہ قومی نصاب فریم ورک کا جامع جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قومی نصاب فریم ورک پر تمام سیاسی جماعتوں، اراکین صوبائی اسمبلی اور متعلقہ فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے، کیونکہ قومی نصاب ملک کے مستقبل اور نئی نسل کی فکری و تعلیمی سمت متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
اہم خبرپاکستان
دانش اسکولوں کی تنظیم نو، مالی پائیداری اور تعلیمی معیار بہتر بنانے پر غور
