کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی سیکریٹریٹ نے انسدادِ دہشت گردی (بلوچستان ترمیمی) ایکٹ 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، گورنر بلوچستان کی منظوری کے بعد ترمیم شدہ قانون نافذ العمل ہوگیا ہے ترمیم کے تحت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں نئی دفعات شامل کی گئی ہیں، جن کے مطابق پاکستان پینل کوڈ کے باب ششم، یعنی ریاست کے خلاف جرائم، اور بعض دیگر مخصوص جرائم کو اس صورت میں انسدادِ دہشت گردی عدالت میں قابلِ سماعت قرار دیا گیا ہے جب یہ جرائم عوام میں خوف و ہراس پھیلانے یا ریاست کو خوفزدہ کرنے کی نیت سے کیے گئے ہوں۔ ترمیم شدہ قانون کے تحت ایسے مقدمات کا ٹرائل انسدادِ دہشت گردی عدالتوں میں کیا جاسکے گا۔ قانون میں مزید ترمیم کے ذریعے پبلک پراسیکیوٹر یا ڈسٹرکٹ لا آفیسر، جنہیں کم از کم 10 سالہ سروس کا تجربہ حاصل ہو، کو بھی انسدادِ دہشت گردی عدالت کا جج مقرر کیے جانے کی اہلیت دی گئی ہے۔ نئی شق کے تحت ریاست کے خلاف جرائم کو بھی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ ایسے مقدمات میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد کسی اضافی حکومتی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ترمیمی قانون کا مقصد دہشت گردی، ریاست مخالف سرگرمیوں اور ایسے جرائم کے خلاف قانونی کارروائی کے عمل کو مزید مو¿ثر بنانا اور مقدمات کی سماعت کے لیے انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کے دائرہ اختیار کو واضح کرنا ہے۔
اہم خبربلوچستانپاکستان
بلوچستان میں انسدادِ دہشت گردی قانون میں ترمیم منظور
