اہم خبرپاکستان

ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن اڑان پاکستان کے لیے مالیاتی انجن ہیں، احسن اقبال

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے لیے روایتی طرزِ حکمرانی اور کاروبار کے معمول کے طریقہ کار سے نکل کر تیز رفتار ڈیجیٹل معیشت کی طرف منتقل ہونا ہوگا، جبکہ ٹیکس اصلاحات اور وسائل میں اضافہ اڑان پاکستان کے پورے پروگرام کے لیے مالیاتی انجن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ اعتماد اور مو¿ثر ذرائع سے آمدن میں اضافہ کیے بغیر دیگر قومی اقتصادی مشنز کے لیے مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے جاسکتے۔ احسن اقبال کی زیر صدارت اڑان پاکستان کے قومی اقتصادی مشن، ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں قومی اقتصادی مشن 2 پر پیش رفت اور ملکی وسائل میں اضافے کے لیے اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور وسائل میں اضافہ مشن 2، اڑان پاکستان کے تحت قومی اقتصادی کونسل سے منظور شدہ 11 قومی اقتصادی مشنز میں سے ایک ہے۔ قومی اقتصادی کونسل ملک کا اعلیٰ ترین معاشی فیصلہ ساز آئینی ادارہ ہے اور ان 11 مشنز کا بنیادی مقصد پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کے اہداف قابلِ حصول ہیں، تاہم ان کے حصول کے لیے ہر شعبے میں بنیادی تبدیلی اور ٹرانسفارمیشن درکار ہے۔ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف سٹیٹس کو کے ساتھ حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے، اگر ہم کاروبار معمول کے مطابق چلاتے رہے تو مطلوبہ معاشی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو کچھوے کی رفتارسے نہیں بلکہ ڈیجیٹل رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا اور معاشی ترقی کے لیے روایتی طریقہ کار سے نکل کر ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ عرصے میں معاشی استحکام حاصل کیا ہے، تاہم موجودہ سطح کا استحکام پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے کافی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں ترقیاتی بجٹ کی سطح کہیں زیادہ تھی، جبکہ آج ترقیاتی بجٹ اس تناسب سے بہت کم ہے۔ اگر دو ہزار ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں استحکام حاصل کیا جا رہا ہے تو اسے مکمل معاشی استحکام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ اور نئے وسائل پیدا کرنا ہوں گے۔ موجودہ بجٹ ڈھانچے میں ترقیاتی اخراجات کے لیے مزید گنجائش پیدا کرنا مشکل ہے، اس لیے موجودہ وسائل کو مو¿ثر انداز میں متحرک کرنے کے ساتھ نئے وسائل پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ وسائل کو متحرک کرنے کے لیے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ وزیراعظم کی کاوشوں سے گزشتہ دو برس کے دوران حکومت کی ٹیکس وصولی کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم بڑا چیلنج ٹیکس کی شرح کم کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ اور مجموعی ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا بوجھ کم اور ٹیکس دینے والوں کی تعداد بڑھانا معاشی پالیسی کی ترجیح ہونی چاہیے۔ وفاقی وزیر نے برآمدات میں اضافے کو پاکستان کی اہم ترین قومی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے۔ وزارت منصوبہ بندی کی ذمہ داری ہے کہ وزیراعظم کی رہنمائی میں جامع قومی ترقیاتی منصوبہ تیار کرکے متعلقہ وزارتوں کو فراہم کرے اور اس پر مو¿ثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی کی تجزیاتی اور تحقیقی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برآمدات کے واضح اہداف مقرر کرنا ہوں گے اور یہ طے کرنا ہوگا کہ کون سے شعبے کتنی برآمدات فراہم کرسکتے ہیں اور اس کے لیے کون سے عملی اقدامات درکار ہوں گے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے نہ صرف ملکی وسائل میں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ معیشت کو دستاویزی بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ منصوبے مکمل نہیں کیے جاسکتے تو نئے منصوبے شروع کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوگی

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *